یہ ریکارڈ 2018 کے روس ورلڈ کپ کے قریب پہنچ گیا ہے، جہاں مجموعی طور پر 12 اون گول(خود اپنے پول میں گول کرنا)ہوئے تھے۔ 48 ٹیموں اور 104 میچز پر مشتمل اس توسیع شدہ ٹورنامنٹ میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔
اب تک کئی ٹیمیں اون گولز(خود اپنے پول میں گول کرنا) سے متاثر ہوئی ہیں، جبکہ میزبان امریکا کو بھی دو مرتبہ فائدہ ملا ہے۔ پیراگوئے کے ڈامیان بوبادیلا نے امریکا کے خلاف میچ کے ابتدائی منٹوں میں اون گول کیا، جبکہ آسٹریلیا کے کیمرون برگیس بھی اسی فہرست میں شامل ہوئے۔
سوئٹزرلینڈ کے میرو موہائم اور قطر کے محمد مناعی، مصر کے محمد ہانی، عراق کے ایمن حسین اور اردن کے یزان العرب بھی بدقسمتی سے اپنے ہی پول میں گیند پہنچا چکے ہیں۔ ایمن حسین نے ایک ہی میچ میں عراق کے لیے گول بھی کیا، جس کے بعد وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے چند ان کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے جنہوں نے ایک ہی میچ میں دونوں ٹیموں کے لیے گول کیا۔
مزید پڑھیں:62 شاٹس، صفر گول: ترکی کا ورلڈ کپ سفر اختتام پذیر
اعداد و شمار کے مطابق ورلڈ کپ کی تاریخ میں اب تک 61 اون گول ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں سے تقریباً 12 فیصد صرف اس ٹورنامنٹ میں آئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1930 کے پہلے ورلڈ کپ میں پہلا خود گول میکسیکو کے مینوئل روزاس نے کیا تھا، جبکہ 1990 کے بعد سے کوئی ورلڈ کپ ایسا نہیں گزرا جس میں خود گول نہ ہوا ہو۔
اس سال امریکا کے حق میں ہونے والے دو اون گولز بھی ایک ہی ٹیم کے لیے کسی ایک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے ریکارڈ کی برابری کر رہے ہیں۔







