انگلینڈ اور فرانس دونوں کو سیمی فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اب ان کے پاس ورلڈ کپ کا اختتام کامیابی کے ساتھ کرنے کا یہی آخری موقع ہے۔ اگرچہ کوئی بھی ٹیم ٹائٹل جیتنے کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد مایوسی کا شکار ہوتی ہے، لیکن تیسری پوزیشن حاصل کرنا اب بھی ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے دونوں ٹیمیں پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتریں گی
یہ میچ ہارڈ راک اسٹیڈیم، میامی گارڈنز، فلوریڈا میں کھیلا جائے گا، جو 2026 ورلڈ کپ کے لیے منتخب کیے گئے 16 میزبان اسٹیڈیمز میں شامل ہے۔ یہ ٹورنامنٹ کا 103واں میچ ہوگا، جبکہ مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے جائیں گے اور اگلے روز ورلڈ کپ کا فائنل منعقد ہوگا۔
اگرچہ 2026 کے ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ 48 ٹیموں نے شرکت کی اور ٹورنامنٹ کے فارمیٹ میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئیں، جن میں راؤنڈ آف 32 کا اضافہ بھی شامل ہے، تاہم فیفا نے تیسری پوزیشن کے میچ کی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ دنیا کے کئی بڑے فٹبال ٹورنامنٹس نے برونز میڈل کے میچ کو ختم کر دیا ہے، لیکن فیفا ورلڈ کپ میں یہ مقابلہ آج بھی آفیشل شیڈول کا حصہ ہے۔
تیسری پوزیشن کا میچ ورلڈ کپ کی قدیم روایات میں شمار ہوتا ہے۔ صرف 1930 کے افتتاحی ورلڈ کپ میں برونز میڈل کے لیے کوئی باضابطہ مقابلہ نہیں ہوا تھا، تاہم 1934 سے لے کر اب تک ہر ورلڈ کپ میں تیسری اور چوتھی پوزیشن کا فیصلہ میدان میں ہی کیا جاتا رہا ہے۔
اس میچ کی اہمیت صرف اعزاز تک محدود نہیں بلکہ مالی اعتبار سے بھی یہ دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ فیفا کے اعلان کے مطابق تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کو 29 ملین امریکی ڈالر جبکہ چوتھی پوزیشن پر آنے والی ٹیم کو 27 ملین امریکی ڈالر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ تمام شریک ٹیموں کو ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے لیے بھی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس کے باعث یہ مقابلہ قومی فٹبال فیڈریشنز کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: بابر الیون ویسٹ انڈیز میں نئی مہم کے لیے تیار
فیفا نے ابتدا میں 2026 ورلڈ کپ کے لیے شریک ٹیموں کے لیے 655 ملین امریکی ڈالر کے انعامی فنڈ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں مجموعی مالی تقسیم بڑھا کر تقریباً 900 ملین امریکی ڈالر کر دی گئی، جو ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا انعامی فنڈ ہے اور 48 ٹیموں پر مشتمل نئے فارمیٹ کی عکاسی کرتا ہے۔
اگرچہ شائقین کی توجہ ورلڈ کپ فائنل پر مرکوز ہوگی، لیکن انگلینڈ اور فرانس کے درمیان تیسری پوزیشن کا مقابلہ بھی کسی بڑے فائنل سے کم نہیں سمجھا جا رہا۔ دونوں ٹیمیں مایوس کن سیمی فائنل شکست کو بھلا کر کامیابی کے ساتھ ٹورنامنٹ کا اختتام کرنے کی کوشش کریں گی، جبکہ شائقین کو دو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے۔






