انڈیا کی اوپنر سمرتی مندھانا، مڈل آرڈر بیٹر جمیما روڈریگز اور آل راؤنڈر دیپتی شرما کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جب کہ پاکستان کی وکٹ کیپر سدرا نواز نے اپنی شاندار کارکردگی سے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی۔

1۔ سمرتی مندھانا (انڈیا)

انڈیا کی اوپنر سمرتی مندھانا نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 434 رنز 54.25 کی اوسط سے اسکور کیے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی 109 رنز کی سنچری یادگار رہی، جب کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف بھی انہوں نے اہم اننگز کھیلیں۔ ان کی مستقل مزاجی نے انڈیا کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔

2۔ لارا وولوارٹ (جنوبی افریقہ)

جنوبی افریقہ کی کپتان لارا وولوارٹ کو ٹیم کی قیادت بھی سونپی گئی ہے۔ انہوں نے ورلڈ کپ میں ریکارڈ 571 رنز 71.37 کی اوسط سے اسکور کیے، جو کسی بھی ایڈیشن میں سب سے زیادہ ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں ان کی 169 رنز کی اننگز اور انڈیا کے خلاف فائنل میں 101 رنز کی باری شاندار رہی۔

3۔ جمیما روڈریگز (انڈیا)

انڈیا کی مڈل آرڈر بلے باز جمیما روڈریگز نے 292 رنز 58.40 کی اوسط سے بنائے۔ ان کی سب سے یادگار اننگز آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل میں 127 ناقابل شکست رنز کی تھی، جس نے انڈیا کو فائنل تک پہنچایا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی 76 رنز کی باری بھی ٹیم کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

4۔ مریزانے کیپ (جنوبی افریقہ)

تجربہ کار آل راؤنڈر مریزانے کیپ نے ایک بار پھر اپنی کلاس دکھائی۔ انہوں نے 12 وکٹیں حاصل کیں اور 208 رنز اسکور کیے۔ سیمی فائنل میں ان کی 5/20 کی بولنگ اور 42 رنز کی اننگز نے جنوبی افریقہ کو فائنل میں پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

5۔ ایش گارڈنر (آسٹریلیا)

آسٹریلوی آل راؤنڈر ایش گارڈنر نے 328 رنز اور 7 وکٹیں حاصل کر کے اپنی بہترین کارکردگی دکھائی۔ انگلینڈ کے خلاف صرف 69 گیندوں پر سنچری نے انہیں ٹورنامنٹ کی تیز ترین سنچری بنانے والی کھلاڑی بنا دیا۔ سیمی فائنل میں انڈیا کے خلاف ان کی 63 رنز کی اننگز بھی نمایاں رہی۔

6۔ دیپتی شرما (انڈیا)

ٹورنامنٹ کی بہترین کھلاڑی دیپتی شرما نے آل راؤنڈ پرفارمنس کے ذریعے انڈیا کو چیمپئن بنایا۔ انہوں نے 22 وکٹیں حاصل کیں اور 215 رنز اسکور کیے۔ فائنل میں جنوبی افریقہ کے خلاف 5/39 کی شاندار بولنگ اور 58 رنز کی اننگز نے انڈیا کی فتح یقینی بنائی۔

7۔ اینابل سدھرلینڈ (آسٹریلیا)

آسٹریلیا کی اینابل سدھرلینڈ نے 17 وکٹیں حاصل کیں اور 117 رنز اسکور کیے۔ ان کا انڈیا کے خلاف 5/40 کا اسپیل آسٹریلیا کی اہم کامیابی میں فیصلہ کن ثابت ہوا۔ انگلینڈ کے خلاف میچ میں ان کی 98 رنز کی ناقابل شکست اننگز بھی یادگار رہی۔

8۔ نادین ڈے کلرک (جنوبی افریقہ)

نادین ڈے کلرک نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں عمدہ کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے 208 رنز 52 کی اوسط سے اسکور کیے اور 9 وکٹیں حاصل کیں۔ انڈیا کے خلاف ان کی 84 رنز کی برق رفتار اننگز اور دو وکٹوں کی کارکردگی نے انہیں پلیئر آف دی میچ بنایا۔

9۔ سدرا نواز (پاکستان)

پاکستان کی وکٹ کیپر سدرا نواز ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں شامل ہونے والی واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے پورے ایونٹ میں بہترین وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے آٹھ شکار (چار کیچز اور چار اسٹمپنگز) مکمل کیے۔ آسٹریلیا کے خلاف ان کی برق رفتار اسٹمپنگز نے سب کو متاثر کیا۔

10۔ الانا کنگ (آسٹریلیا)

آسٹریلیا کی لیگ اسپنر الانا کنگ نے 13 وکٹیں حاصل کیں اور جنوبی افریقہ کے خلاف 7/18 کی تاریخی بولنگ کی، جو ورلڈ کپ کی بہترین بولنگ اسپیلز میں شمار ہوتی ہے۔ وہ آسٹریلیا کے لیے ایک کلیدی باؤلر ثابت ہوئیں۔

11۔ صوفی ایکلسٹون (انگلینڈ)

انگلینڈ کی اسپنر صوفی ایکلسٹون نے 16 وکٹیں 14.25 کی اوسط سے حاصل کیں۔ ان کی 4/44 کی بولنگ سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار رہی۔ انہوں نے پورے ایونٹ میں اپنی نپی تلی لائن اور کنٹرول سے سب کو متاثر کیا۔

12۔ نیتھ سکور برنٹ (انگلینڈ)

نیتھ سکور برنٹ کو بطور 12ویں کھلاڑی منتخب کیا گیا۔ انہوں نے 262 رنز اور 9 وکٹوں کے ساتھ اپنی آل راؤنڈ مہارت ثابت کی۔ سری لنکا کے خلاف ان کی سنچری اور دو وکٹوں کی کارکردگی نے ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

واضح رہے کہ یہ ٹیم آف دی ٹورنامنٹ ویمنز کرکٹ کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاس ہے، جس میں انڈیا اور جنوبی افریقہ کی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی نے شائقین کے دل جیت لیے۔