یہ واقعہ جمعے کے روز سن رائزرز حیدرآباد اور رائل چیلنجرز بینگلورو کے درمیان کھیلے گئے میچ میں پیش آیا، جہاں دونوں کھلاڑیوں کے درمیان میدان میں گرما گرم جملوں کا تبادلہ ہوا۔
میچ کے دوران ویرات کوہلی صرف 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جب کہ ان کی ٹیم کو 55 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
میچ کے بعد ہاتھ ملانے کے دوران بھی کشیدگی دیکھی گئی، جب کوہلی نے ٹریوس ہیڈ کی جانب بڑھایا گیا ہاتھ نظر انداز کر دیا، اگرچہ انہوں نے دیگر کھلاڑیوں سے مصافحہ کیا۔
واقعے کے بعد ٹریوس ہیڈ اور ان کی اہلیہ جیسیکا کے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر بڑی تعداد میں توہین آمیز تبصرے کیے گئے، جنہیں مبینہ طور پر ویرات کوہلی کے بعض مداحوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
جیسیکا ہیڈ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کے دوستوں اور خاندان کے افراد کو بھی نجی پیغامات میں نفرت اور بدزبانی کا سامنا کرنا پڑا۔
South Australian cricket star Travis Head and his wife Jess, have been targeted in a sickening series of social media posts after on-field tension involving Indian great Virat Kohli. | @joshuacwebster pic.twitter.com/yDJeLf94Ry
— 10 News Adelaide (@10NewsAdl) May 25, 2026
انہوں نے کہا کہ میں اٹھی تو میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مسلسل حملے ہو رہے تھے۔ ہم ٹھیک ہیں، لیکن اب میرے دوستوں اور خاندان کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جیسیکا نے کہا کہ کھیل میں جذبہ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ میدان کے پیچھے حقیقی انسان اور ان کے خاندان بھی ہوتے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ واقعہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ مہربانی اور احترام سے پیش آنے کی یاد دہانی کرائے گا۔
جیسیکا ہیڈ نے اس صورتحال کا موازنہ 2023 کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2023 کے بعد ہونے والی آن لائن بدسلوکی سے بھی کیا، جب آسٹریلیا نے انڈیاکو احمد آباد میں ہونے والے فائنل میں شکست دی تھی۔







