یہ جرمانہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر لگایا گیا۔ انڈین میڈیا کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی یہ جرمانہ ذاتی طور پر ادا کریں گے۔ انڈین نیوز ویب سائٹ نے اس حوالے سے ایک پاکستانی نجی ٹی وی کا حوالہ دیا ہے۔

میچ کے دوران حارث رؤف نے وکٹ لینے کے بعد اور باؤنڈری کے قریب فیلڈنگ کرتے ہوئے انڈین تماشائیوں کی ہوٹنگ پر ردعمل دیتے ہوئے جہاز گرنے کا اشارہ کیا تھا جسے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

اسی میچ میں اوپنر صاحبزادہ فرحان نے نصف سنچری مکمل ہونے پر بندوق چلانے کے انداز میں جشن منایا تھا جس پر آئی سی سی نے انہیں صرف وارننگ جاری کی۔

واضح رہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ نے میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ اور آئی سی سی کے سامنے دونوں پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف شکایات درج کروائی تھیں۔

جوابی کارروائی کے طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی انڈین کپتان سوریہ کمار یادو کے خلاف دو شکایات درج کروائیں۔ پی سی بی کے مطابق سوریہ کمار نے 14 ستمبر کو گروپ اسٹیج میچ کے بعد پہلگام واقعے کو سیاسی رنگ دیا تھا۔

Featured image (3) (66)
 انڈین کپتان نے خود کو قصور وار نہ ہونے کی درخواست دی تھی جو میچ ریفری رچی رچرڈسن نے مسترد کر دی۔ (تصویر: جیو)

ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق آئی سی سی نے سوریہ کمار کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے کر ان پر میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ عائد کیا۔ انڈین کپتان نے خود کو قصور وار نہ ہونے کی درخواست دی تھی جو میچ ریفری رچی رچرڈسن نے مسترد کر دی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ سوریہ کمار یادو پر ضابطہ اخلاق کی سب سے سخت شق یعنی لیول فور کی سزا عائد کی جائے۔

تاحال آئی سی سی یا متعلقہ بورڈز کی جانب سے کسی نئے فیصلے یا اقدام کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔