ٹیسٹ کرکٹ کے نئے ترین کیریبیئن وینیو پر سست رفتار پچ نے بلے بازوں اور فاسٹ بولرز دونوں کے لیے چیلنجز پیدا کیے۔ پاکستان کے بولرز رنز کی رفتار تو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہے، تاہم وہ مستقل دباؤ کے باوجود زیادہ خطرناک ثابت نہ ہو سکے۔

کاویم ہوج نے تقریباً چار گھنٹے کریز پر گزارے اور 181 گیندوں پر نو چوکوں کی مدد سے 83 رنز بنائے۔ ان کا ساتھ شائی ہوپ نے دیا، جنہوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 39 رنز بنائے۔ دونوں کے درمیان چوتھی وکٹ کے لیے ناقابل شکست شراکت نے ویسٹ انڈیز کو 106 رنز پر تین وکٹوں کی مشکل صورتحال سے نکال کر مستحکم پوزیشن میں پہنچا دیا۔

بارش کے باعث پہلے روز صرف ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ کھیل ممکن ہو سکا۔ اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کو پہلی کامیابی محمد عباس نے دلائی، جب برینڈن کنگ آف اسٹمپ سے باہر جاتی گیند کو کھیلنے کی کوشش میں بولڈ ہو گئے۔

کھانے کے وقفے کے بعد کاویم ہوج اور ٹیگنارائن چندرپال نے دوسری وکٹ کے لیے 51 رنز جوڑے، تاہم عامر جمال نے چندرپال کو دوسری سلپ میں سلمان آغا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔

اس کے بعد محمد عباس نے عامر جنگو کو ایل بی ڈبلیو کیا۔ اگرچہ آن فیلڈ امپائر نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا تھا، تاہم پاکستان کے ریویو پر فیصلہ تبدیل ہو گیا۔

محمد عباس نے 19 اوورز میں 44 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں اور دن کے اختتام پر کہا کہ مجموعی طور پر یہ پاکستان کے لیے اچھا دن تھا، اگرچہ ٹیم مزید دو وکٹیں حاصل کرنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق پچ کافی سست ہے اور بولرز کو ہر موقع پیدا کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑ رہی ہے۔

آخری سیشن میں عباس نے کاویم ہوج کے خلاف دو مرتبہ ایل بی ڈبلیو کی مضبوط اپیلیں بھی کیں، تاہم ایک فیصلہ ریویو پر تبدیل ہوگیا جبکہ دوسری اپیل میں ٹی وی ری پلے کے مطابق گیند وکٹوں سے معمولی فاصلے سے گزر رہی تھی۔

پاکستانی بولرز نے مجموعی طور پر رنز کی رفتار محدود رکھی، تاہم عامر جمال کے سوا کوئی بولر مستقل خطرہ پیدا نہ کر سکا۔ عامر جمال نے 10 اوورز میں 54 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی، جبکہ ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان نے 12 اوورز میں کفایتی بولنگ کی لیکن کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔

میچ سے قبل دونوں ٹیموں کو اہم تبدیلیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولر الزاری جوزف ذاتی وجوہات کی بنا پر ٹیم سے دستبردار ہوگئے، جبکہ پاکستان کے اوپنر عبداللہ فضل کمر کی انجری کے باعث نہ صرف اس سیریز بلکہ انگلینڈ کے آئندہ دورے سے بھی باہر ہو گئے۔