لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق بگٹی نے بتایا کہ وہ اپنا استعفیٰ وزیرِاعظم کو بھجوا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کپتان عماد بٹ پر دو سال کی پابندی لگائی گئی ہے اور وہ اس عرصے کے دوران نہ ڈومیسٹک اور نہ ہی انٹرنیشنل سطح پر کھیل سکیں گے۔
آسٹریلیا میں پاکستان ہاکی ٹیم کے ساتھ پیش آنے والے بدانتظامی کے واقعے پر بات کرتے ہوئے طارق بگٹی نے کہا کہ وہ وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل سے درخواست کرتے ہیں کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے جو معاملے کی مکمل چھان بین کرے اور پرولیگ میں ہونے والی بے نظمی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کی جانب سے بروقت تعاون نہ ملنے کے باعث دورۂ آسٹریلیا کے دوران مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق ہاکی فیڈریشن کے پاس اتنے فنڈز موجود نہیں تھے کہ وہ تمام انتظامات خود سنبھال سکتی۔ آسٹریلیا میں ہوٹل بکنگ کے لیے درکار رقم بھی پاکستان اسپورٹس بورڈ نے وقت پر ادا نہیں کی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی کا مستعفی ہونے کا اعلان pic.twitter.com/7XW05YjT5B
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) February 19, 2026
طارق بگٹی کا کہنا تھا کہ وہ خود پی ایس بی گئے اور فنڈز کی جلد فراہمی کی درخواست کی، مگر انہیں بتایا گیا کہ رقم جاری ہونے میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔
طارق بگٹی نے مزید کہا کہ پورا شیڈول رانا مجاہد نے اسپورٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جس کوالیفائنگ راؤنڈ کے لیے ٹیم جا رہی ہے، وہ بہتر کارکردگی دکھائے گی۔
ان کے مطابق پاکستان کی عالمی درجہ بندی پہلے 18 ویں نمبر پر تھی جو اب بہتر ہو کر 13 ویں پوزیشن پر آ گئی ہے، اور یہ ایک اہم کامیابی ہے۔
انہوں نے فیلڈ مارشل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھرپور تعاون کیا، جب کہ وزیرِاعظم کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے انہیں دو سال تک کام کرنے کا موقع دیا اور ہاکی کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کر کے جاری کیے۔
یہ بھی پڑھیں: کھلاڑیوں کے ساتھ ناروا سلوک: وزیراعظم کا ہاکی مینجمنٹ کو فارغ کرنے کا فیصلہ
دوسری جانب وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے انکوائری مکمل کر لی ہے۔ تین رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ تیار کر کے وزیرِاعظم آفس کو بھجوا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ میں متعدد مالی معاملات کا ذکر کیا گیا ہے اور اس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔






