آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارے نے حکومتِ پاکستان کے اس بیان کا نوٹس لیا ہے، جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے باضابطہ فیصلے سے آگاہ کیے جانے کا منتظر ہے، تاہم یہ مؤقف ایک ایسے عالمی اسپورٹس ایونٹ کے بنیادی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا جہاں تمام کوالیفائی کرنے والی ٹیموں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ طے شدہ شیڈول کے مطابق برابری کی بنیاد پر مقابلہ کریں۔

آئی سی سی کے مطابق اس کے ٹورنامنٹس کی بنیاد کھیل کی دیانت داری، مسابقت، تسلسل اور انصاف پر ہوتی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ آئی سی سی قومی پالیسی کے معاملات میں حکومتوں کے کردار کا احترام کرتی ہے، تاہم یہ فیصلہ عالمی کرکٹ اور دنیا بھر کے شائقین، بشمول پاکستان کے لاکھوں مداحوں، کے مفاد میں نہیں ہے۔

آئی سی سی نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس فیصلے کے اپنے ملک میں ہونے والے اہم اور طویل المدتی اثرات پر سنجیدگی سے غور کرے گا، کیونکہ اس کے عالمی کرکٹ نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کا پی سی بی خود بھی رکن اور مستفید ہونے والا فریق ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کی اولین ترجیح آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا کامیاب انعقاد ہے اور یہ ذمہ داری پاکستان کرکٹ بورڈ سمیت آئی سی سی کے تمام رکن ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ آئی سی سی نے توقع ظاہر کی ہے کہ پی سی بی تمام متعلقہ فریقین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی طور پر قابلِ قبول حل تلاش کرے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل حکومتِ پاکستان نے قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کرنے کی باضابطہ طور پر اجازت دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم 15 فروری 2026 کو انڈیا کے خلاف شیڈول میچ میں میدان میں نہیں اترے گی۔