یہ فیصلہ 30 ستمبر کو کیا گیا جبکہ سیریز کا آغاز 12 اکتوبر سے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ لیکشن کمیٹی کے مطابق ٹیم کی قیادت شان مسعود کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق اسکواڈ میں تین نئے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جن میں آصف آفریدی، فیصل اکرم اور وکٹ کیپر بیٹر روحیل نذیر شامل ہیں۔ ان کھلاڑیوں کو پہلی مرتبہ ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
اعلان کردہ اسکواڈ میں پاکستان کے نمایاں اور تجربہ کار کھلاڑی بھی شامل ہیں جن میں سابق کپتان بابر اعظم، وکٹ کیپر محمد رضوان اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔
مزید یہ کہ اوپننگ بیٹرز میں عبداللہ شفیق اور امام الحق کو شامل کیا گیا ہے جبکہ مڈل آرڈر میں سلمان علی آغا اور سعود شکیل موجود ہیں۔ آل راؤنڈر عامر جمال کو ٹیم میں برقرار رکھا گیا ہے جبکہ فاسٹ بولنگ لائن میں حسن علی اور خرم شہزاد کو شامل کیا گیا ہے۔

اسپن گیند بازی کے شعبے میں نعمان علی، ساجد خان، کامران غلام اور ابرار احمد کو اسکواڈ میں جگہ دی گئی ہے۔ سلیکشن کمیٹی کے مطابق ہوم کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپنرز کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلا ٹیسٹ 12 سے 16 اکتوبر تک قذافی اسٹیڈیم لاہور میں جبکہ دوسرا ٹیسٹ 20 سے 24 اکتوبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ 30 ستمبر سے آٹھ اکتوبر تک لاہور میں لگایا جائے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ایشیا کپ کھیلنے والے کھلاڑی چار اکتوبر کو اسکواڈ کے ساتھ شامل ہوں گے۔
پی سی بی نے مزید بتایا ہے کہ پہلے ٹیسٹ سے قبل 18 رکنی اسکواڈ کو مختصر کر کے حتمی پلیئنگ اسکواڈ جاری کیا جائے گا۔

ٹیسٹ سیریز کے بعد پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی اور تین ایک روزہ میچوں کی سیریز بھی کھیلی جائے گی جو 28 اکتوبر سے آٹھ نومبر تک جاری رہے گی۔ وائٹ بال سیریز کے لیے ٹیم کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
واضع رہے کہ پی سی بی کے ترجمان کے مطابق تمام میچز کی تیاریوں کے لیے قومی ٹیم کو مکمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ہوم کنڈیشنز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔







