راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیصلہ کن میچ میں پاکستانی بیٹنگ لائن نے ایک مرتبہ پھر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

محمد رضوان نے بہترین بیٹنگ کرتے ہوئے ناقابلِ شکست 61 رنز بنائے، جب کہ حسین طلعت نے 42 رنز کی کارآمد اننگز کھیل کر جیت کو یقینی بنایا۔

اوپنر فخر زمان نے بھی مسلسل فارم برقرار رکھتے ہوئے 55 رنز کی ففٹی اسکور کی۔ دوسرے میچ میں تاریخی سنچری جڑنے والے بابر اعظم اس بار 34 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

وکٹ کیپر بیٹر حسیب اللہ خان 12 گیندیں کھیل کر بھی کھاتہ نہ کھول سکے، جب کہ سلمان علی آغا صرف چھ رنز پر پویلین لوٹے۔

سری لنکا کی جانب سے جیفری وینڈرسے سب سے کامیاب باؤلر رہے، جنہوں نے تین وکٹیں حاصل کیں، جب کہ مہیش ٹھیکشانہ نے ایک وکٹ لی۔

اس سے قبل سری لنکا کی پوری ٹیم پاکستانی باؤلرز کے سامنے جدوجہد کرتی نظر آئی اور 46ویں اوورز میں 211 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

مہمان ٹیم کی جانب سے سدیرا سماراوکرما نے 48 رنز کے ساتھ سب سے زیادہ اسکور کیا، کپتان کوسال مینڈس نے 34 اور کامل مشارا نے 29 رنز کی اننگز کھیلی، مگر کوئی بھی بیٹر بڑی شراکت قائم نہ کرسکا۔

پاکستانی باؤلرز نے مجموعی طور پر شاندار کارکردگی پیش کی۔محمد وسیم جونیئر نے 47 رنز کے عوض تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

اسپنر فیصل اکرم اور فاسٹ باؤلر حارث رؤف نے دو، دو شکار کیے، جب کہ فہیم اشرف اور کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

ٹاس جیت کر شاہین شاہ آفریدی نے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ موسم اور پچ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے باولنگ پہلے کرنا فائدہ مند ہوگا اور دوسری اننگز میں شبنم کا فائدہ بھی ملے گا۔

پاکستان نے آج کے میچ کے لیے چار تبدیلیاں کیں، جن میں شاہین آفریدی کی واپسی، فیصل اکرم، فہیم اشرف اور حسیب اللہ خان کی شمولیت شامل کی گئی تھی۔

سری لنکا نے بھی اپنی پلیئنگ الیون میں چار تبدیلیاں کیں، چارتھ اسالنکا بیماری کے باعث باہر ہوئے اور قیادت کوسال مینڈس نے سنبھالی، جب کہ پَون رتنائیکے نے ڈیبیو کیا۔

یاد رہے، پاکستان نے پہلے میچ میں سری لنکا کو چھ وکٹوں اور دوسرے میں آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔