راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل مقابلے میں پاکستان نے سری لنکا کا 115 رنز کا ہدف بآسانی چار وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا، بابر اعظم 34 گیندوں پر 37 رنز کی زمہ دارانہ اننگز کھیل کر وکٹ پر موجود رہے۔

دیگر بیٹرز میں صائم ایوب 33 گیندوں پر 36 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، صاحب زادہ فرحان 23 اور کپتان سلمان علی آغا 14 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹے، فخر زمان 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

سری لنکا کی جانب سے پاون رتھنایک نے دو، وانندو ہاسارنگا اور ایشان مالینگا نے ایک،ایک وکٹ اپنے نام کی۔

اس سے قبل پاکستانی گیند بازوں کی تباہ کن گیند بازی کی بدولت سری لنکا کی پوری ٹیم 114 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سری لنکا کی پوری ٹیم پانچ گیند قبل 114 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، سری لنکا کی جانب سے نسناکا اور کامل مشرا نے اچھا آغاز فراہم کیا، لیکن نسناکا 11 رنز ہی بنا کر چلتے بنے۔

کامل مشرا نے سری لنکن ٹیم کے گرتے ہوئے مورال کو سنبھالا اور 59 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، اُن کی اننگ میں چار چھکے اور دو چوکے شامل تھے۔ اُن کے آؤٹ ہونے کے بعد سری لنکن ٹیم کی وکٹیں خزاں میں پتوں کی مانند گرنے لگیں۔

تین کھلاڑیوں کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی ڈبل فگر میں داخل نا ہوسکا اور اس طرح پوری ٹیم پانچ گیند قبل ہی آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی اور محمد نواز نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، ابرار احمد نے دو وکٹیں اپنے نام کیں، جب کہ صائم ایوب اور سلمان مرزا کے حصے میں ایک،ایک وکٹ آئی۔

ٹاس کے موقع پر کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاکہ اچھی کرکٹ کھیل کر سری لنکا کو ہراسکتے ہیں ، پاور پلے میں اچھی باؤلنگ اور بیٹنگ ضروری ہے، امید ہے، پنڈی کی پچ پر 170 سے 180کے قریب رنز بنیں گے، کوشش ہوگی اپنی100 فیصد صلاحیتیں بروئے کارلائیں۔

اہم مقابلے کے لیے پاکستان کی پلیئنگ الیون میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، فاسٹ باؤلر وسیم جونیئر کی جگہ شاہین شاہ آفریدی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

پاکستانی اسکوڈ سلمان علی آغا کی قیادت میں صائم ایوب، بابر اعظم، صاحب زادہ فرحان اور عثمان خان ٹیم میں شامل ہیں، فخر زمان، محمد نواز، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، سلمان مرزا اور ابرار احمد بھی پلیئنگ الیون کا حصہ ہیں۔