خبر رساں نشریاتی ارادے ڈان کے مطابق کولمبو کی موسلا دھار بارشوں اور بار بار بیٹنگ کے انہدام نے پاکستان کی ویمنز ٹیم کی ورلڈ کپ مہم کا فیصلہ تو کر دیا، لیکن ان کی مشکلات کی جڑ میدان کے باہر کیے گئے فیصلوں میں تھی۔
کپتان فاطمہ ثنا نے آسٹریلیا سے شکست کے بعد خود اعتراف کیا کہ ٹیم کے پاس 50 اوورز کا تجربہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ پہلے 10 اوورز میں اچھے کھیل رہے ہیں تو آخری گیند تک اسی تسلسل کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2024 کے بعد سے فاطمہ کی ٹیم نے ایک بھی ون ڈے انٹرنیشنل نہیں کھیلا تھا۔ ایک سال تک ون ڈے کرکٹ سے دوری کے باوجود کھلاڑی اپنی انفرادی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ دیگر جنوبی ایشیائی ٹیمیں بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا کرتی ہیں لیکن ان کی کارکردگی میں بہتری نظر آتی ہے۔
بنگلہ دیش کی مثال سامنے ہے۔ پاکستان سے ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں سات وکٹوں سے شکست دینے والی ٹیم نے ٹورنامنٹ سے پانچ ماہ قبل کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا تھا۔ لیکن ورلڈ کپ میں انہوں نے بھرپور تیاری اور بہتر پلان کے ساتھ میدان میں اتر کر جیت حاصل کی۔
فاطمہ ثنا نے اگرچہ گیند کے ساتھ شاندار کارکردگی دکھائی اور 10 وکٹوں کے ساتھ ٹورنامنٹ کی ٹاپ بولرز میں شامل رہیں، لیکن ان کی بیٹنگ ٹیم کے لیے بوجھ بن گئی۔ وہ پورے ایونٹ میں صرف 39 رنز بنا سکیں اور 7.8 کی اوسط سے بیٹنگ کی۔ یہ اعداد و شمار پوری بیٹنگ لائن کی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔
سابق جنرل منیجر ویمنز وِنگ شمسہ ہاشمی نے کہا کہ ٹیم کی بیٹنگ میں ارادے اور اعتماد کی کمی نظر آئی۔ ان کے مطابق کوچنگ اسٹاف کو زیادہ مکمل بیٹرز تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
مزید براں ورلڈ کپ سے قبل کراچی میں ہونے والے مہینے بھر کے اسکلز اور فٹنس کیمپ میں ایک بھی نائٹ نیٹس سیشن شامل نہیں تھا۔ روشنیوں کے نیچے پریکٹس صرف مردوں کی ٹیم کو نصیب ہوئی جو بنگلہ دیش کے دورے کی تیاری کر رہی تھی۔
لاہور میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے باوجود، جب کولمبو میں گیند حرکت کرنے لگی تو کھلاڑی تیار نظر نہیں آئے۔ ٹیم نے ہر بار ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، جس نے ناتجربہ کار بیٹنگ لائن کو مشکل حالات میں دھکیل دیا۔
واضع رہے کہ رواں ورلڈ کپ میں بارش اور ناکامی کے مناظر عام تھے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ ان وجوہات کو سنجیدگی سے لے گا جو ٹیم کی کارکردگی کے زوال کی بنیاد بنیں۔ جیسا کہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے، ایک بار پھر کپتان اور کوچنگ اسٹاف پر الزامات لگیں گے۔ مگر جب تک ڈھانچے کی سطح پر موجود خامیوں کو درست نہیں کیا جاتا، پاکستان ویمنز کرکٹ میں حقیقی بہتری ممکن نہیں۔






