راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ابتدائی اوورز میں امام الحق اور عبداللہ شفیق نے ٹیم کو محتاط آغاز فراہم کیا تاہم امام الحق 17 کے انفرادی اسکور پر بولڈ ہوگئے۔
اس کے بعد عبداللہ شفیق اور شان مسعود نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سنچریاں مکمل کیں اور ٹیم کا اسکور مستحکم بنیادوں پر پہنچایا۔
تاہم 57 رنز بنانے کے بعد عبداللہ شفیق کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان کو تیسرا نقصان اس وقت ہوا جب کپتان بابر اعظم صرف 16 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ بابر اعظم نے 22 گیندوں پر 3 چوکے لگائے، لیکن وہ ایک بار پھر اپنی وکٹ سنبھالنے میں ناکام رہے۔
بابر اعظم کو جنوبی افریقہ کے اسپنر کیشو مہاراج نے آؤٹ کیا۔ وہ ایک تیز اسپن ہوتی گیند پر سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔ ان کی وکٹ گرنے کے بعد قومی ٹیم دباؤ کا شکار نظر آئی۔
بابر اعظم کی مسلسل ناکامیاں اب شائقین اور ماہرین کرکٹ کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کپتان پر اس وقت اپنی فارم واپس لانے کا دباؤ بڑھ چکا ہے، کیونکہ درمیانی اوورز میں ٹیم کو ان کی بڑی اننگز کی اشد ضرورت ہے۔
میچ کے پہلے دن کھیل کے اختتام تک پاکستان نے تین وکٹوں کے نقصان پر 185 رنز بنائے تھے۔ کریز پر اس وقت شان مسعود اور سعود شکیل موجود ہیں۔
قومی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، فاسٹ بولر حسن علی کو ڈراپ کر کے بائیں ہاتھ کے اسپنر آصف آفریدی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جو آج اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 93 رنز سے شکست دے کر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر رکھی ہے۔







