پی سی بی کے مطابق نسیم شاہ پر یہ جرمانہ سینٹرل کنٹریکٹ کی خلاف ورزی پر عائد کیا گیا۔ بورڈ نے 27 مارچ 2026 کو کھلاڑی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جس میں مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی گئی تھی۔

نسیم شاہ کا جواب موصول ہونے کے بعد 30 مارچ کو تین رکنی ڈسپلنری کمیٹی نے کیس کی سماعت کی۔

پی سی بی کے مطابق کھلاڑی کے مؤقف اور غیر مشروط معافی کا جائزہ لینے کے باوجود کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ نسیم شاہ سینٹرل کنٹریکٹ کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں، جس پر ان پر دو کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

پی سی بی نے مزید بتایا کہ نسیم شاہ نے اپنے سوشل میڈیا ایڈوائزر کو برطرف کر دیا ہے، جب کہ بورڈ نے بھی مذکورہ ایڈوائزر کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ آئندہ پی سی بی کے دائرہ اختیار میں آنے والے کسی بھی کھلاڑی کے ساتھ کام نہ کر سکے۔

بورڈ نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پیشہ ورانہ معیار، معاہدوں کی پاسداری اور کھیل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔