اجلاس میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے فارمیٹ، ادائیگی کے طریقہ کار اور میچ فیس میں اضافے کی منظوری دی گئی۔ پی سی بی کے فیصلے کے مطابق ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ میچ فیس دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے قومی کھلاڑیوں کی میچ فیس بڑھا کر 15 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ون ڈے انٹرنیشنل میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو ساڑھے 6 لاکھ روپے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے والے کھلاڑیوں کو ساڑھے 4 لاکھ روپے فی میچ ملیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے تحت اے اور بی کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کے لیے بھی مختلف فارمیٹس کے حساب سے معاوضے مقرر کیے گئے ہیں۔ اے کیٹیگری کے ٹیسٹ کھلاڑی کو 15 لاکھ روپے، ون ڈے کھلاڑی کو ساڑھے 7 لاکھ روپے جبکہ ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی کو ساڑھے 6 لاکھ روپے فی میچ فیس دی جائے گی۔
اسی طرح بی کیٹیگری میں شامل ون ڈے کھلاڑیوں کو ساڑھے 7 لاکھ روپے اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کھلاڑیوں کو 5 لاکھ روپے فی میچ حاصل ہوں گے۔ سی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کے لیے ٹی ٹوئنٹی میچ فیس 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ اگر وہ ون ڈے میچ کھیلتے ہیں تو انہیں بھی یہی رقم دی جائے گی۔
پی سی بی بورڈ آف گورنرز نے ڈومیسٹک کرکٹ کے بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے مختص رقم 3 ارب روپے سے بڑھا کر 4 ارب روپے کرنے کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد ملک میں نچلی سطح پر کرکٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اجلاس میں قائداعظم ٹرافی کے کھلاڑیوں کی میچ فیس میں بھی بڑا اضافہ کیا گیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کے کھلاڑیوں کی فیس 30 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے، جبکہ ریزرو کھلاڑیوں کی میچ فیس 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دی گئی۔
پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا، جس میں پی ایس ایل کو انتظامی اور مالیاتی معاملات میں مزید خودمختار بنانے کے اقدامات کی منظوری دی گئی جبکہ پی ایس ایل 12 کے بجٹ کو بھی منظور کر لیا گیا۔
بورڈ آف گورنرز نے ویمنز کرکٹ کے فروغ کے لیے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس کے انعقاد اور اس کے لیے فنڈز مختص کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ ریجنل گراؤنڈ اسٹاف کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 42 ہزار روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی آل راؤنڈر شاداب خان کی کاؤنٹی کرکٹ میں واپسی
اجلاس میں ملک بھر میں کرکٹ انفرااسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ پی سی بی نے مزید 12 گراؤنڈز کو فعال کرنے اور نیشنل اسٹیڈیم سمیت دیگر کرکٹ سہولیات کی اپ گریڈیشن کے لیے 6 ارب 70 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کرنے کی منظوری دی۔
اس کے علاوہ لاہور کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں جدید بائیو مکینکس مشین نصب کرنے کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے، تاکہ کھلاڑیوں کی تکنیکی صلاحیتوں اور کارکردگی کو جدید سائنسی طریقوں سے بہتر بنایا جا سکے۔
پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کا مقصد قومی اور ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار کو بلند کرنا، کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور پاکستان میں کرکٹ کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔







