دوحا (قطر) میں کھیلے گئے اس اہم مقابلے میں قومی ٹیم نے 137 رنز کا ہدف صرف 14ویں اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کر لیا۔
What a moment for the Men in Green! 😍
— AsianCricketCouncil (@ACCMedia1) November 16, 2025
Sadaqat’s match-defining knock, backed by a collective bowling effort, gives them the edge over India ~ and the tournament is wide open now! 🇵🇰#DPWorldAsiaCupRisingStars2025 #INDvPAK #ACC pic.twitter.com/BXXqTQRKVL
پاکستانی اوپنر معاذ صداقت نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 79 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی اور فتح کی بنیاد رکھ دی۔ جارحانہ انداز اپناتے ہوئے معاذ نے میدان کے چاروں جانب اسٹروک پلے کا مظاہرہ کیا اور چار چھکے اور سات چوکے جڑے۔
ٹاپ آرڈر میں محمد نعیم 14 اور یاسر خان 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جب کہ محمد فائق 16 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
⭐️🇵🇰#DPWorldAsiaCupRisingStars2025 #INDvPAK #ACC pic.twitter.com/mKCmiAsHWn
— AsianCricketCouncil (@ACCMedia1) November 16, 2025
انڈیا کی جانب سے سویاش شرما اور یش ٹھاکر نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل انڈیا اے کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان شاہینز کے سامنے مکمل طور پر جدوجہد کرتی رہی اور 19ویں اوور کی آخری گیند پر 136 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
انڈیا کے ویبھو سوریا ونشی نے 28 گیندوں پر 45 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیلی، جب کہ نامن داہر 35 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ باقی بیٹرز پاکستان کی نپی تلی باؤلنگ کے سامنے بندھے رہے اور کوئی بڑی شراکت قائم نہ کرسکا۔
پاکستان کی جانب سے باؤلرز نے مجموعی طور پر شاندار کارکردگی دکھائی۔
What a proud moment for Pakistan and for the Board today! 🇵🇰✨
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) November 16, 2025
Our Pakistan Shaheens defeated India A by 8 wickets, chasing down the target in just 13.2 overs.
A dominant, fearless and unforgettable performance in the Asia Cup Rising Stars Tournament in Doha.
Superb cricket by… pic.twitter.com/ZmnAtXQhKA
شاہد عزیز نے 24 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا، معاذ صداقت اور سعد مسعود نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، جب کہ صفیان مقیم، احمد دانیال اور عبید شاہ نے ایک، ایک شکار کیا۔
میچ کے دوران ایک ناخوشگوار لمحہ اُس وقت پیش آیا جب ٹاس کے موقع پر انڈین کپتان نے پاکستانی کپتان سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ یہ اقدام اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ بھارت کی سینئر ٹیم کی طرح ایمرجنگ پلیئرز بھی کھیل میں سیاست شامل کرنے سے گریز نہیں کر رہے۔






