غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، آئی او سی اور سعودی نیشنل اولمپک کمیٹی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ دونوں فریقوں نے باہمی رضامندی سے اولمپک ای اسپورٹس گیمز پر اپنے تعاون کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ ایونٹ رواں سال ریاض میں منعقد ہونا تھا، تاہم فروری میں غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ سال جولائی میں آئی او سی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت مملکت کو 2025 سے شروع ہونے والے 12 سال تک ان گیمز کی میزبانی حاصل رہنی تھی۔

ُاُس وقت کے آئی او سی کے صدر تھامس باخ نے اس منصوبے کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم اب ان کی جگہ کرسٹی کووینٹری نے صدارت کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

آئی او سی نے ماضی میں 2021 اور 2023 میں اولمپک ای اسپورٹس سیریز کے نام سے چھوٹے پیمانے پر ورچوئل اسپورٹس مقابلے منعقد کیے تھے، مگر گیمنگ ماہرین نے ان ایونٹس پر روایتی ای اسپورٹس ٹائٹلز کی کمی پر تنقید کی تھی۔

آئی او سی کے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں دونوں فریقوں اور ای اسپورٹس ورلڈ کپ فاؤنڈیشن کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فریقین نے باہمی طور پر فیصلہ کیا کہ وہ اولمپک ای اسپورٹس گیمز پر اپنے تعاون کو ختم کریں گے، تاہم دونوں اپنے اپنے ای اسپورٹس منصوبوں کو آزادانہ طور پر آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

ای اسپورٹس ورلڈ کپ کے پہلے دو ایڈیشن 2024 اور 2025 میں ریاض میں منعقد ہوئے، جن میں دنیا کے معروف ترین ویڈیو گیمز شامل تھے۔ یہ ایونٹس سعودی عرب کی جانب سے منظم کیے گئے تھے۔

آئی او سی کے مطابق، اس نئے انتظام سے ای اسپورٹس گیمز کو اولمپک تحریک کے طویل المدتی اہداف کے ساتھ بہتر طور پر ہم آہنگ کیا جا سکے گا اور افتتاحی گیمز کو جلد از جلد منعقد کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند برسوں میں سعودی عرب نے عالمی کھیلوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی الزام لگاتی ہیں کہ مملکت اپنے عالمی تشخص کو بہتر دکھانے کے لیے کھیلوں کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

سعودی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور مؤقف اپناتی ہے کہ وہ اپنے قوانین اور قومی سلامتی کے اصولوں کے تحت تمام اقدامات کرتی ہے۔