اجلاس میں مالی سال 2024-25 کے سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی اسٹیٹمنٹس کی باضابطہ منظوری دی گئی، جبکہ آئی سی سی گلوبل اینٹی کرپشن کوڈ کے مطابق پی سی بی کے پروسیجرل رولز بھی منظور کر لیے گئے۔
بورڈ نے سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کے ساتھ جدہ میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر و ترقی کے لیے تعاون کے اظہارِ دلچسپی کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ جغرافیائی بنیادوں پر لاہور کے کرکٹ زونز کی نئی حد بندی اور ان کے ناموں پر نظرثانی کی بھی توثیق کی گئی۔
اجلاس میں ڈومیسٹک کرکٹ کے فروغ میں نمایاں خدمات پر عبداللہ خرم نیازی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں میں عبداللہ خرم نیازی نے ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری کے لیے بھرپور محنت کی۔
بورڈ آف گورنرز نے پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کے لیے ٹیموں کی ریکارڈ نیلامی پر اطمینان اور تشکر کا اظہار کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پی ایس ایل اب سرمایہ کاری کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم بن چکی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب یہ دنیا کی نمبر ون لیگ بن جائے گی۔
اجلاس میں بورڈ ممبران انوار احمد غنی، طارق سرور، عدنان ملک، سجاد کھوکھر، ظفر اللہ اور اسماعیل قریشی نے شرکت کی جبکہ ظہیر عباس اور سیکرٹری کابینہ نے آن لائن اجلاس میں حصہ لیا۔
اس کے علاوہ چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل، چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی، چیف فنانشل آفیسر، ڈائریکٹر میڈیا، ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ، ڈائریکٹر کمرشل سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔







