دوسرے ٹیسٹ میں انڈیا کو فتح کے لیے 121 رنز کا ہدف درکار تھا۔ کپتان شبمن گل نے پانچویں دن کے آغاز پر ایک وکٹ کے نقصان پر 63 کے اسکور سے اننگز شروع کی اور پہلی ہی سیشن میں ہدف حاصل کر لیا۔ کے ایل راہول 58 رنز بنا کر ناقابلِ شکست رہے۔
ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے اپنی آف اسپن بولنگ سے دو وکٹیں حاصل کیں۔ سائی سدھارتھن 39 اور شبمن گل 13 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جب کہ کے ایل راہول نے فاتحانہ چوکا لگا کر ٹیم کو کامیابی دلائی۔ اگرچہ ویسٹ انڈیز نے دوسری اننگز میں زبردست مزاحمت دکھائی اور فالو آن کے بعد 390 رنز بنائے۔ اس اننگز میں جان کیمبل اور شائی ہوپ نے سنچریاں اسکور کیں۔
26 سالہ شبمن گل کی قیادت میں انڈین ٹیم ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے کیونکہ روہت شرما اور ویرات کوہلی دونوں ریٹائر ہو چکے ہیں۔
𝙒.𝙄.𝙉.𝙉.𝙀.𝙍.𝙎 🏆
— BCCI (@BCCI) October 14, 2025
Congratulations #TeamIndia on a commanding Test series victory 🇮🇳
Scorecard ▶ https://t.co/GYLslRyLf8@IDFCFIRSTBank | #INDvWI pic.twitter.com/CQR9liagqy
انڈیا نے سیریز کا پہلا ٹیسٹ ایک اننگز اور 140 رنز سے جیتا تھا۔ اس سے قبل جون سے اگست تک انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز دو-دو سے برابر ہوئی تھی، جو شبمن گل کی بطور کپتان پہلی بڑی آزمائش تھی۔
شبمن گل نے میچ کے بعد گفتگو میں کہا کہ یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب میں اس ذمہ داری کا عادی ہو رہا ہوں۔ ٹیم کی قیادت کرنا اور کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چلنا ان کے لیے فخر کی بات ہے۔
شبمن گل نے مئی میں ٹیسٹ کپتان بننے کے بعد شاندار فارم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں میں 754 رنز بنائے، جب کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دو میچوں میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری اسکور کی۔
انڈیاکے بائیں ہاتھ کے اسپنر کلدیپ یادیو کو آٹھ وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، جن میں پہلی اننگز میں 82 رنز کے عوض پانچ وکٹیں شامل تھیں۔
📸📸
— BCCI (@BCCI) October 14, 2025
A day to cherish for #TeamIndia 🇮🇳
Scorecard ▶ https://t.co/GYLslRzj4G#INDvWI | @IDFCFIRSTBank pic.twitter.com/w6F6o8h5QY
کلدیپ یادیو نے سیریز میں مجموعی طور پر 12 وکٹیں حاصل کیں، جب کہ فاسٹ بولر محمد سراج نے 10 وکٹیں حاصل کر کے 2025 میں انڈیاکے سب سے کامیاب بولر ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ انہوں نے رواں سال آٹھ میچوں میں 37 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
دوسری جانب، ویسٹ انڈیز گزشتہ کئی برسوں سے زوال کا شکار ہے، اور دہلی میں آخری دن کی مزاحمت کے باوجود اسے مسلسل دوسری ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل وہ آسٹریلیا کے خلاف بھی تین-صفر سے ہارا تھا۔
اس کے باوجود سیریز میں کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے۔ بائیں ہاتھ کے اوپنر جان کیمبل نے 115 اور شائی ہوپ نے 103 رنز بنائے، اور دونوں نے تیسری وکٹ کے لیے 177 رنز کی شراکت قائم کی، جس سے انڈین بولرز کو سست پچ پر مشکلات پیش آئیں۔
ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے کہا کہ ہمیں اس آخری ٹیسٹ کو آئندہ سیریز کے لیے بنیاد اور حوصلہ افزا موقع کے طور پر لینا چاہیے۔ ہمیں یہاں سے بہتری کے عمل کو جاری رکھنا ہے۔
انڈیا نے ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں 248 رنز پر آؤٹ کر کے فالو آن کرایا، جس کے بعد مہمان ٹیم نے دوسری اننگز میں بہتر مزاحمت دکھائی۔ 50 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہنے والے جسٹن گریوز اور 32 رنز بنانے والے جےڈن سیلز نے آخری وکٹ کے لیے 79 رنز کی شراکت قائم کی اور انڈیاکو پانچویں دن کھیلنے پر مجبور کر دیا۔







