ای سی بی کے مطابق جاری تحقیقات مکمل ہونے تک دونوں کھلاڑی 17 جون سے دی اوول میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔ بین اسٹوکس کی عدم موجودگی میں سابق کپتان جو روٹ ٹیم کی قیادت کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق اسٹوکس اور اٹکنسن نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ٹیم کی مقررہ کرفیو پالیسی کی خلاف ورزی کی تھی۔ دونوں کھلاڑی اُس وقت موجود تھے جب انگلینڈ ٹیم کے سیکیورٹی عملے کے ایک رکن اور ساراسنز رگبی کلب کے ایک کھلاڑی کے درمیان جھگڑا پیش آیا۔

یہ واقعہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے نظم و ضبط سے متعلق حالیہ برسوں کے متعدد تنازعات میں ایک اور اضافہ ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں نائب کپتان ہیری بروک کو ویلنگٹن کے ایک نائٹ کلب کے باہر ایک باؤنسر کے ہاتھوں تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب کہ آسٹریلیا میں ایشز سیریز کے دوران بھی انگلش کھلاڑیوں کی مبینہ غیر مناسب سرگرمیوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی تھیں۔

اگرچہ انگلینڈ کرکٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر روب کی نے مارچ میں ٹیم میں مبینہ شراب نوشی کی ثقافت کے الزامات کو مسترد کیا تھا، تاہم اس کے بعد ای سی بی نے سخت کرفیو پالیسی نافذ کر دی تھی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انگلینڈ نے لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کو 115 رنز سے شکست دی تھی۔ اس کامیابی میں گس اٹکنسن نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں، تاہم حالیہ واقعے نے اس کامیابی کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔

ای سی بی نے بتایا ہے کہ کرکٹ ریگولیٹر، جو بورڈ سے الگ ایک خودمختار ادارہ ہے، بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

دوسری جانب اس واقعے کے بعد بین اسٹوکس کے مستقبل اور کپتانی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تاہم سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی یقیناً غلطی ہے، لیکن یہ انہیں ٹیسٹ کپتانی سے ہٹانے کے لیے کافی نہیں۔

بین اسٹوکس اس سے قبل بھی میدان سے باہر تنازعات کا سامنا کر چکے ہیں۔ 2017 میں برسٹل کے ایک نائٹ کلب کے باہر جھگڑے کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا، تاہم بعد ازاں عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔ اس واقعے کے باعث وہ 2017-18 کی ایشز سیریز سے محروم رہے تھے۔

مبصرین کے مطابق یہ نیا تنازع انگلینڈ کرکٹ کے لیے ایک اور امتحان ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم پر بھی ٹیم کے نظم و ضبط اور ماحول کے حوالے سے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کے اسکواڈ میں فاسٹ بولر جوفرا آرچر اور بلے باز جارڈن کاکس کو شامل کر لیا گیا ہے، جب کہ جو روٹ ایک بار پھر قومی ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔