فیفا کے اس فیصلے کو ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ماضی میں ریڈ کارڈ حاصل کرنے والا کھلاڑی لازمی طور پر اگلا میچ نہیں کھیل سکتا تھا۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ صرف دوسری بار ہوا ہے کہ کسی کھلاڑی کو ریڈ کارڈ کے باوجود اگلا میچ کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سے قبل 1962 کے ورلڈ کپ میں برازیل کے لیجنڈ گارینشا کے ساتھ ایسا ہوا تھا۔
فیفا نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ فیصلہ ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے تحت کیا گیا، جو ادارے کو سزا کو مکمل یا جزوی طور پر معطل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ تاہم فیفا نے یہ واضح نہیں کیا کہ بالوگن کے معاملے میں یہ اختیار کیوں استعمال کیا گیا، جبکہ ٹورنامنٹ کے دوران دیگر ریڈ کارڈ حاصل کرنے والے تمام کھلاڑی اپنی معطلی مکمل کر چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بالوگن کی معطلی کا معاملہ اٹھایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ورلڈ کپ ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو جیولیانی اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک بھی اس معاملے پر فیفا سے رابطے میں تھے۔ تاہم فیفا نے ان رابطوں کو اپنے فیصلے سے جوڑنے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر بیلجیئم فٹبال فیڈریشن نے فیصلے پر شدید حیرت اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ورلڈ کپ کے ضوابط سے متصادم ہے، جن کے مطابق ریڈ کارڈ حاصل کرنے والا کھلاڑی خودکار طور پر اگلے میچ سے معطل ہوتا ہے۔ بیلجیئم کے ہیڈ کوچ روڈی گارسیا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے "5 جولائی اب یکم اپریل بن گئی ہو"، اور انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنی ٹیم نہیں بلکہ فٹبال کے اصولوں کا دفاع کر رہے ہیں۔
سابق انگلش انٹرنیشنل مائیکا رچرڈز نے بھی فیصلے کو "تماشا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بڑے کھلاڑیوں کے لیے قوانین میں نرمی کی جائے گی تو اس سے پورے ٹورنامنٹ کی ساکھ متاثر ہوگی۔
مزید پڑھیں: لیونل میسی کا بیسواں ورلڈ کپ گول، ایک اور عالمی ریکارڈ اپنے نام
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر بالوگن کا ریڈ کارڈ معطل کیا جا سکتا ہے تو مستقبل میں دیگر ٹیمیں بھی ریڈ کارڈ کے بعد ایسی ہی رعایت کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس فیصلے سے فیفا کے نظم و ضبط کے نظام، قوانین کے یکساں اطلاق اور سیاسی اثر و رسوخ سے متعلق نئی بحث نے جنم لیا ہے۔
اب تمام نظریں امریکا اور بیلجیئم کے درمیان ہونے والے پری کوارٹر فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں فولا رِن بالوگن کی میدان میں واپسی نہ صرف میچ بلکہ فیفا کے اس متنازع فیصلے کو بھی عالمی توجہ کا مرکز بنائے رکھے گی۔







