ایک نجی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پی سی بی حکام نے کھلاڑیوں پر واضح کر دیا ہے کہ اب محض نام اور شہرت پر مراعات نہیں ملتیں، بہتر کارکردگی دکھانے پر ہی مالی فوائد حاصل ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق قومی ٹیم نیدرلینڈز کے خلاف ابتدائی میچ میں شکست سے بال بال بچی اور بعد ازاں امریکا کو شکست دی۔ سری لنکن کنڈیشنز سے واقفیت اور معیاری اسپن بولرز کی موجودگی کے باعث انڈیا کے خلاف بہتر کھیل کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم ایشیا کپ کے تین مقابلوں کی طرح اس بار بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

بعد ازاں نمیبیا کو شکست دے کر سپر ایٹ مرحلے میں رسائی حاصل کی گئی، مگر نیوزی لینڈ کے خلاف میچ بارش کی نذر ہو گیا۔ انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات اگر مگر سے مشروط ہو گئے۔

انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو ہرا کر پاکستان کی امیدیں روشن کیں، تاہم سری لنکا کے خلاف بمشکل فتح کے باوجود رن ریٹ بہتر نہ ہو سکا۔ یوں نیوزی لینڈ سیمی فائنل میں پہنچ گیا اور گرین شرٹس کا سفر اختتام پذیر ہوا۔ اس کارکردگی پر شائقین کے ساتھ بورڈ حکام بھی سخت ناراض ہیں۔

یاد رہے کہ قومی کرکٹرز کی سالانہ آمدنی کروڑوں روپے میں ہے۔ بی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو 30 لاکھ روپے ماہانہ معاوضہ اور 15 لاکھ 52 ہزار 500 روپے آئی سی سی شیئر دیا جاتا ہے، جب کہ سی کیٹیگری کا ماہانہ معاوضہ 10 لاکھ اور آئی سی سی شیئر 10 لاکھ 35 ہزار روپے ہے۔ ڈی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو ساڑھے سات لاکھ روپے ماہانہ اور 5 لاکھ 17 ہزار 500 روپے آئی سی سی شیئر ملتا ہے، جب کہ میچ فیس اس کے علاوہ ہے۔ یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک کے سینٹرل کنٹریکٹ میں کسی کھلاڑی کو اے کیٹیگری میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

جاری ورلڈ کپ میں صاحبزادہ فرحان 383 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، تاہم دیگر ٹاپ بیٹرز صائم ایوب، سلمان علی آغا، بابر اعظم اور عثمان خان پورے ٹورنامنٹ میں انفرادی طور پر 100 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکے۔ بولرز میں 10 وکٹیں لینے والے اسپنر عثمان طارق کے سوا دیگر کی کارکردگی اوسط درجے کی رہی۔

ایونٹ سے قبل فخر زمان کو ابتدائی میچز کی پلیئنگ الیون میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں سری لنکا کے خلاف اوپننگ کا موقع ملنے پر انہوں نے 200 کے اسٹرائیک ریٹ سے 84 رنز بنا کر اپنی افادیت ثابت کی، تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

سینیئر بیٹر بابر اعظم بھی توقعات پر پورا نہ اتر سکے، جب کہ سلمان علی آغا بطور بیٹر خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ کپتانی کے فیصلوں پر بھی سوالات اٹھتے رہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں پی سی بی مزید سخت فیصلوں کا اعلان کر سکتا ہے۔