ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے گروپ ڈی کے ایک غیر اہم (ڈیڈ ربڑ) میچ میں جنوبی افریقہ نے چار تبدیلیوں کے باوجود عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور یو اے ای کو باآسانی زیر کر لیا۔ پہلے ہی سپر ایٹ مرحلے میں جگہ یقینی بنانے کے بعد جنوبی افریقہ نے اس میچ کو تیاری کے طور پر لیا اور ڈیوڈ ملر، مارکو یانسن، کیشو مہاراج اور لونگی نگیڈی کو آرام دیا۔

جنوبی افریقہ کے بولرز نے نپی تلی بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو مقررہ اوورز میں 122 رنز تک محدود رکھا۔ جواب میں ڈیوالڈ بریوس نے 36 اور ریان رکلیٹن نے 30 رنز بنائے اور اس کے ساتھ ہی  جنوبی افریقہ نے مطلوبہ ہدف 13.2 اوورز میں حاصل کر کے گروپ مرحلے میں مسلسل چوتھی کامیابی سمیٹ لی۔

جنوبی افریقہ کے کپتان ایڈن مارکرم نے میچ کے بعد کہاکہ ان کھلاڑیوں کو موقع ملتے دیکھ کر خوشی ہوئی جو ٹیم میں شامل ہوئے اور انہوں نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ باؤلنگ یونٹ نے ایک بار پھر منصوبے کے مطابق کارکردگی دکھائی، جس سے ہمیں بطور گروپ اعتماد ملا کہ اسکواڈ کے تمام پندرہ کھلاڑی اچھی فارم میں ہیں۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی اننگز کا آغاز مشکلات سے دوچار رہا۔ اوپنر آرینش شرما ابتدا میں ایک موقع ملنے کے باوجود بڑی اننگز نہ کھیل سکے۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر جارج لنڈے نے اپنے پہلے ہی اوور میں محمد وسیم کو 22 رنز پر آؤٹ کر کے حریف ٹیم کو دباؤ میں ڈال دیا۔ بعد ازاں کوربن بوش نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کیں اور یو اے ای کی بیٹنگ لائن کو سنبھلنے نہ دیا۔

صہیب خان کی وکٹ گرنے کے بعد اسکور 66 رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ تھا۔ عالیشان شرافو نے 45 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر مزاحمت کی، تاہم ایک باؤنسر لگنے کے بعد انہیں احتیاطی تدابیر کے تحت کنکشن پروٹوکول پر بھی رکھا گیا۔ اس کے باوجود یو اے ای کی ٹیم خاطر خواہ مجموعہ ترتیب نہ دے سکی۔

ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کو پاور پلے میں مارکرم اور کوئنٹن ڈی کوک کی وکٹوں کا نقصان ضرور اٹھانا پڑا، مگر رکلیٹن اور بریوس کی تیز رفتار بیٹنگ نے میچ کا پانسہ یکسر پلٹ دیا۔ اگرچہ دونوں بلے باز اننگز کے اختتام تک وکٹ پر موجود نہ رہ سکے، تاہم فتح جنوبی افریقہ کے ہاتھ رہی۔

یوں جنوبی افریقہ نے گروپ مرحلہ چاروں میچ جیت کر اختتام پذیر کیا اور سپر ایٹ مرحلے میں بھرپور اعتماد کے ساتھ قدم رکھا۔