ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے میچ میں اسکاٹ لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 207 رنز بنائے، جو اب تک ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا اسکور ہے۔

اوپنر جارج منسی نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 84 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں 13 چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ ان کے ساتھ مائیکل جونز نے 37 رنز بنا کر 126 رنز کی مضبوط اوپننگ شراکت قائم کی۔

اختتامی اوورز میں برینڈن میک ملن نے 18 گیندوں پر ناقابلِ شکست 41 رنز بنائے، جب کہ مائیکل لیسک نے آخری پانچ گیندوں پر دو چوکے اور دو چھکے لگا کر اسکاٹ لینڈ کو اپنے بہترین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اسکور تک پہنچایا۔

جواب میں 208 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں اٹلی کی ٹیم 16.4 اوورز میں 134 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ ابتدا میں ہی اٹلی کو وکٹیں گنوانا پڑیں، تاہم چوتھی وکٹ کے لیے آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے بھائیوں بین اور ہیری مانینٹی نے 73 رنز کی جرات مندانہ شراکت قائم کر کے کچھ مزاحمت دکھائی۔

ہیری مانینٹی 37 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جب کہ بین مانینٹی نے 31 گیندوں پر 52 رنز کی اننگز کھیلی، تاہم ان کے آؤٹ ہونے کے بعد اطالوی بیٹنگ لائن بکھر گئی۔

اسکاٹ لینڈ کی جانب سے آف اسپنر مائیکل لیسک نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 وکٹیں 17 رنز کے عوض حاصل کیں، جب کہ بیٹنگ میں پانچ گیندوں پر ناقابلِ شکست 22 رنز بھی بنائے۔

اٹلی کے لیے ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب کپتان وین میڈسن فیلڈنگ کے دوران کندھا ڈس لوکیٹ ہونے کے باعث بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ آ سکے۔ اٹلی کے کوچ جان ڈیوسن کے مطابق میڈسن کا مزید میچز کھیلنا مشکوک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کے بعد یواےای نے پاکستان سے انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست کردی

میچ کے بعد اسکاٹ لینڈ کے کپتان رچی بیرنگٹن نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ابتدائی میچ میں شکست کے بعد یہ جیت ان کے لیے بے حد ضروری تھی۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے ٹورنامنٹ میں پہلی کامیابی حاصل کی، ابتدائی وکٹیں حاصل کرنا فیصلہ کن ثابت ہوا۔

واضح رہے کہ فٹبال کے لیے مشہور اٹلی اس ٹورنامنٹ کی کم ترین درجہ بندی والی ٹیم ہے اور ورلڈ کپ میں شرکت اس کے لیے ایک تاریخی لمحہ تھا، تاہم پہلے ہی میچ میں اسے اسکاٹ لینڈ کے مضبوط کھیل کے سامنے سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔