لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شان مسعود نے کہا کہ اس مرتبہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ریڈ بال کرکٹ کے فروغ کے لیے خاطرخواہ اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریڈ بال کے لیے خصوصی کیمپ لگائے گئے جب کہ کئی کھلاڑیوں نے کاؤنٹی کرکٹ کھیل کر اپنی صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیاہے۔

کپتان نے کہا کہ جنوبی افریقہ ایک مضبوط اور چیمپئن ٹیم ہے، ہم ان کے خلاف بہترین کارکردگی دکھا کر اپنا مورال بلند کرنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے 20 وکٹیں حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔شان مسعود نے مزید کہا کہ ٹیسٹ سائیکل میں ہوم سیریز کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ پچھلی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں نتائج توقعات کے مطابق نہیں تھے، تاہم کچھ مثبت پہلو ضرور سامنے آئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس بار ہم پوری کوشش کریں گے کہ آغاز بہترین ہو۔

ٹیسٹ کپتان نے کہا کہ اگر فلیٹ ٹریک پر دونوں ٹیمیں 600 رنز بنائیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اچھے نتائج کے لیے بعض اوقات اپنے رنز کی قربانی دینا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رنز ہمیشہ کنڈیشنز کے مطابق بنتے ہیں، ہر میچ میں سنچری بنانا ضروری نہیں ہوتا۔

شان مسعود نے مزید کہا کہ قذافی اسٹیڈیم میں نئی کنڈیشنز ہوں گی، اس لیے ٹیم جلدی سے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ساجد خان ان کنڈیشنز میں اہم بولر ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم بدقسمتی سے انہیں حال ہی میں وائرل فلو ہوا تھا۔ ٹیم پلیئرز کی فٹنس کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جائے گی۔

کپتان کا کہنا تھا کہ ہوم کنڈیشنز سے بھرپور فائدہ اٹھانا ضروری ہے، جیسا کہ ہر ٹیم اپنے ملک میں اپنی سہولت کے مطابق کنڈیشنز تیار کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ان کنڈیشنز میں ہم تین اسپنرز اور ایک فاسٹ بولر کے ساتھ میدان میں اترے، لیکن اس بار فیصلہ پچ اور موسم کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

شان مسعود نے یہ بھی بتایا کہ ٹیم کی تشکیل میں ریورس سوئنگ کے عنصر کو بھی مدِنظر رکھا گیا ہے۔

اس سے قبل، ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود اور جنوبی افریقہ کے کپتان ایڈن مارکرام نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) لاہور میں ٹرافی کی رونمائی کی۔

اس موقع پر ایڈن مارکرام نے این سی اے کے میوزیم کا بھی دورہ کیا، جہاں شان مسعود نے انہیں موجود ٹرافیز اور پاکستان کی تاریخی کامیابیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلا ٹیسٹ کل سے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شروع ہوگا۔

دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے۔