میچ کے بعد پریس کانفرنس میں اظہر محمود نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ قومی ٹیم نے جنوری میں آخری ٹیسٹ میچ کھیلا تھا اور اب اگلا میچ مارچ میں ہوگا۔

 ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں تسلسل کے ساتھ کھیلنے کی ضرورت ہے تاکہ کھلاڑی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکیں۔

 انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان نے صرف چار ٹیسٹ میچز کھیلے، جب کہ آئندہ سال 11 ٹیسٹ میچز شیڈول ہیں، جو ٹیم کے لیے بہتر موقع ثابت ہوں گے۔

اظہر محمود نے کہا کہ اس بار کی پچز ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں بہتر تھیں، کیونکہ ان میں اسپن کے ساتھ ساتھ فاسٹ بولرز کو بھی مدد ملی اور بلے بازوں کے لیے رنز بنانے کے مواقع موجود تھے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایسی پچز پر کھیلنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی اسی نوعیت کی وکٹیں فراہم کی جائیں تاکہ کھلاڑی مختلف کنڈیشنز میں کھیلنے کا ہنر سیکھ سکیں۔

ہیڈ کوچ نے اعتراف کیا کہ ٹیم کی سب سے بڑی ناکامی 93 رنز پر 22 وکٹوں کا نقصان تھا، جو کسی بھی سطح پر قابلِ قبول نہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ہم نے کھلاڑیوں کو یہی پیغام دیا ہے کہ اگر ٹاپ آرڈر 250 سے 260 رنز بنا لے تو لوئر آرڈر کو بھی اسکور میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہی دونوں ٹیموں کے درمیان اصل فرق تھا۔

اظہر محمود نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کو اپنے مضبوط شاٹس کے بارے میں واضح ہونا چاہیے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے متھوسوامے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی اننگز کے دوران سوئپ اور ریورس سوئپ سے مؤثر طریقے سے رنز بنائے، جب کہ پاکستانی بیٹرز بہت زیادہ دفاعی کھیلتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ وہ تھا جب ہم پہلی اننگز میں 300 سے زائد رنز کے بعد اپنی آخری پانچ وکٹیں جلدی گنوا بیٹھے۔ ساتھ ہی انہوں نے تسلیم کیا کہ جنوبی افریقہ کے متھوسوامے اور ربادا نے شاندار بیٹنگ کی، جب کہ پاکستانی فیلڈرز نے تقریباً پانچ آسان کیچز چھوڑ کر میچ کا توازن مخالف ٹیم کے حق میں کر دیا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان اب 28 اکتوبر سے یکم نومبر تک ٹی ٹوئنٹی سیریز راولپنڈی اور لاہور میں کھیلی جائے گی۔ 

نیشنل سلیکشن کمیٹی نے اس کے لیے سلمان علی آغا کی قیادت میں 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی سیریزچار سے آٹھ نومبر تک فیصل آباد میں ہوگی، جس کے بعد 11 سے 15 نومبر تک راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف تین ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔