غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی سینیٹرز نے اتوار کی شب جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ ایران کے شہر میناب میں ایک ابتدائی اسکول پر ہونے والی بمباری پر شدید صدمے اور تشویش کا شکار ہیں۔

یہ حملہ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے ابتدائی مرحلے میں کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ اسکول کے بچوں کا قتل کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں اور یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ یہ بیان ان سینیٹرز کی جانب سے جاری کیا گیا جو قومی سلامتی سے متعلق سینیٹ کی اہم کمیٹیوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سرکردہ ارکان ہیں۔

حالیہ دنوں سامنے آنے والی ویڈیوز اور شواہد سے یہ عندیہ ملا ہے کہ اسکول پر حملے میں ممکنہ طور پر ٹوماہاک میزائل استعمال کیا گیا، جو بنیادی طور پر امریکا کے پاس موجود ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا کروز میزائل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار اسرائیل یا ایران کے پاس موجود نہیں۔

میناب کے اس اسکول پر بمباری کو اب ایران میں جاری جنگ کے دوران شہری شہادتوں کی ایک نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اسکولوں کے علاوہ درجنوں طبی مراکز، رہائشی عمارتیں، گلیوں میں لگنے والی مارکیٹیں، پانی صاف کرنے کا پلانٹ اور دیگر شہری تنصیبات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ایران کے نائب وزیر صحت علی جعفریان کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی اور اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1255 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، شہید ہونے والے زیادہ تر افراد اپنے گھروں یا کام کی جگہوں پر موجود تھے۔

مزید پڑھیں: ایران میں تیل ذخائر پر حملوں کے بعد سیاہ تیزابی بارش، پاکستان پر اثرات کا خدشہ

امریکی سینیٹرز نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکی افواج کو زیادہ اختیار دیا گیا ہے اور جنگی قواعد میں نرمی کی گئی ہے۔

سینیٹرز کے مطابق وزیر دفاع کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس حملے کی جاری تحقیقات مکمل، شفاف اور غیر جانبدار ہوں اور یہ بھی دیکھا جائے کہ آیا کسی پالیسی فیصلے نے اس سانحے میں کردار ادا کیا یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عوام اور کانگریس کو اس واقعے کے بارے میں واضح اور مکمل معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔

تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے قانون سازوں میں برائن شیٹز، جیون شاہین، جیک ریڈ اور الزبتھ وارن سمیت دیگر سینیٹرز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے اور اس جیسے دیگر واقعات کا مکمل اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

گزشتہ ہفتے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی جنگی طیارے ایران پر انتہائی مہلک حملے کر رہے ہیں اور انہیں کارروائی کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔ امریکا کسی غیر ضروری جنگی پابندی کے بغیر اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اسکول پر بمباری ایران کی جانب سے کی گئی۔ تاہم وزیر دفاع ہیگستھ نے اس دعوے کی واضح تائید نہیں کی اور بار بار یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

لازمی پڑھیں: پیوٹن کی مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارکباد، ’مجھے یقین ہے آپ وقار کے ساتھ اپنے والد کے کام کو جاری رکھیں گے‘

ادھر شہریوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم سینٹر فار سویلینز ان کانفلیکٹ کی امریکی ڈائریکٹر اینی شیل کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں ابتدائی طور پر امریکا نے شہری شہادتوں سے انکار کیا لیکن بعد میں تحقیقات سے حقیقت سامنے آئی۔

انہوں نے 2021 میں افغانستان میں امریکی انخلا کے دوران ہونے والے ایک ڈرون حملے کی مثال دی جسے ابتدا میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کامیاب کارروائی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں تحقیقات سے ثابت ہوا کہ اس حملے میں 10 عام شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں سات بچے بھی شامل تھے۔

اینی شیل کے مطابق میناب میں ہونے والے حملے کو محض تعلقاتِ عامہ کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی جمعے کے روز میناب کے اسکول پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بچوں کے خلاف ایک سنگین حملہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ترک فضائی حدود میں داخل ہونے والا ایرانی میزائل نیٹو نے مار گرایا ہے، ترکی

ماہرین نے کہا کہ تدریسی اوقات میں ایک فعال اسکول کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت انتہائی سنگین معاملہ ہے اور اس کی فوری، آزادانہ اور مؤثر تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنے بیان میں کہا کہ کلاس روم میں بیٹھی لڑکیوں کو قتل کرنے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔