روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے قتل کو انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
روس اور چین نے مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا، جس میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کیا گیا، تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک کی جانب سے ایران کے حق میں براہِ راست عسکری کارروائی کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔
مزید پڑھیں : ایران سے مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے کیا جائے، برطانوی وزیراعظم
روس اور ایران: اسٹریٹجک شراکت دار مگر فوجی اتحادی نہیں
روس اور ایران کے درمیان تعلقات مضبوط ضرور ہیں لیکن دونوں ممالک باضابطہ فوجی اتحادی نہیں ہیں۔
جنوری 2025 میں روس اور ایران کے درمیان ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ طے پایا تھا جس میں تجارت، دفاعی تعاون، سائنس، ثقافت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون کو وسعت دی گئی جبکہ ایران کے ذریعے روس کو خلیجی ممالک سے جوڑنے والے اہم ٹرانسپورٹ منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔
تاہم اس معاہدے میں باہمی دفاع کی شق شامل نہیں، جس کا مطلب ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہو تو دوسرا ملک لازمی طور پر جنگ میں شامل ہونے کا پابند نہیں ہو گا۔
روسی ماہر خارجہ پالیسی اینڈرے کورٹونوف کے مطابق روس کے پاس شمالی کوریا کے ساتھ 2024 کا معاہدہ زیادہ مضبوط نوعیت کا ہے جس کے تحت ماسکو کو کسی بھی تنازع میں پیانگ یانگ کا ساتھ دینا ہو گا، جبکہ ایران کے ساتھ معاہدہ اس سطح کا نہیں ہے۔
روس براہِ راست ایران کی حمایت میں فوجی کارروائی سے اس لیے بھی گریز کر سکتا ہے کیونکہ اس سے خطرات بہت زیادہ بڑھ سکتے ہیں اور ماسکو اس وقت روس۔یوکرین جنگ کے تناظر میں امریکا کے ساتھ ممکنہ سفارتی عمل کو ترجیح دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ طویل ہو سکتی ہے، دورانیہ ہم طے کریں گے: امریکی وزیر دفاع
چین اور ایران کے مضبوط معاشی تعلقات
چین اور ایران کے درمیان بھی قریبی معاشی تعلقات موجود ہیں۔ دونوں ممالک نے 2021 میں 25 سالہ تعاون کا ایک جامع معاہدہ کیا تھا جس کے تحت توانائی، سرمایہ کاری اور چین کے عالمی منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ میں ایران کو شامل کیا گیا۔
چینی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور معاشی روابط مضبوط ہیں، تاہم چین طویل عرصے سے دوسرے ممالک کے تنازعات میں براہِ راست فوجی مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل کرتا آیا ہے۔
چینی تجزیہ کار جوڈی وین کے مطابق بیجنگ کی جانب سے ایران کو ہتھیار فراہم کرنے یا جنگ میں شامل ہونے کا امکان کم ہے کیونکہ چین زیادہ تر سفارت کاری اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر توجہ دے رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایران کی تقریباً 87 فیصد خام تیل کی برآمدات چین کو جاتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین ایران کے لیے ایک اہم معاشی شراکت دار ہے، تاہم چین کی مجموعی عالمی تجارت میں ایران کا حصہ نسبتاً محدود ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کی فضائی اور بحری قوت تباہ کر دی، اس کو روکنا ہماری اولین ترجیح ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
بڑی طاقتیں براہِ راست تصادم سے گریزاں
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور چین اس تنازع میں ایران کی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاکہ خطے میں بڑی طاقتوں کے درمیان ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر بڑی عالمی طاقتیں براہِ راست میدان جنگ میں آ گئیں تو یہ تنازع صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔







