ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کی سپریم لیڈر سے ملاقات گزشتہ ماہ ہوئی، جو تقریباً 7 گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے دوران ملک کی اندرونی صورتحال اور عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے صدر پزشکیان پر زور دیا کہ ملک میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جائے اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے حل پر خصوصی توجہ دی جائے۔
سپریم لیڈر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حالات میں عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے ساتھ قومی سطح پر اتحاد و اتفاق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ملاقات کے دوران صدر مسعود پزشکیان نے ایران کو درپیش سکیورٹی چیلنجز اور حالیہ واقعات سے متعلق سپریم لیڈر کو بریفنگ بھی دی۔
صدر پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران میں بے امنی پیدا کرنے اور ملک کو قحط، لوٹ مار اور سماجی انتشار کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی۔
ایرانی صدر کے مطابق دشمن کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں میں مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ ڈیٹا استعمال کیا گیا، ایرانی سکیورٹی اداروں نے ملک میں سرگرم جاسوسی نیٹ ورک اور مبینہ اجرتی عناصر کی منصوبہ بندی کو مرحلہ وار ناکام بنایا۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران نے مختلف سکیورٹی چیلنجز کے باوجود اپنی داخلی صورتحال پر قابو برقرار رکھا اور دشمن کی مبینہ کارروائیوں کا مقابلہ کیا۔
ملاقات میں ملکی معیشت اور عوام کی معاشی مشکلات بھی زیر بحث آئیں۔ سپریم لیڈر نے حکومت پر زور دیا کہ عوام کی زندگیوں پر پڑنے والے معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور قومی اتحاد کو حکومتی ترجیحات میں اہم مقام دیا جائے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر اور سپریم لیڈر کے درمیان ہونے والی اس طویل ملاقات میں ملک کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز، سکیورٹی صورتحال اور عوامی مسائل سمیت اہم قومی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔







