سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتخاب واقعی بنگلہ دیش میں جمہوریت کی نئی صبح ثابت ہوگا یا سیاسی تقسیم مزید گہری ہوگی؟

12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز 300 براہِ راست نشستوں پر ارکانِ پارلیمنٹ کا انتخاب کریں گے، جب کہ پارلیمنٹ کی مجموعی تعداد 350 ہے جس میں 50 مخصوص خواتین نشستیں شامل ہیں، جب کہ مجوزہ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی اسی روز منعقد ہو رہا ہے۔

حکام نے ملک بھر میں فوج اور پولیس سمیت تین لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ پولنگ مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے تک جاری رہے گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 55 ہزار سے زائد مقامی اور 330 غیر ملکی مبصرین کو نگرانی کی اجازت دی گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ کمیشن نے قوم سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا وعدہ کیا تھا اور آج کا دن منظم انتخابات اور بیلٹ باکس چھیننے کی تاریخ سے قطع تعلق کا دن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولنگ عملہ غیر جانب دار رہے گا اور غلط معلومات بالخصوص سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد، سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ہم نے سچائی کو مصدقہ معلومات سے جواب دینے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔

الیکشن کمیشن کے عہدیدار ابوالفضل محمد ثنا اللہ کے مطابق 18 سے 37 سال کے ووٹرز کل رجسٹرڈ ووٹرز کا 44 فیصد ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے 15 سالہ دور اقتدار میں کبھی مؤثر انداز میں ووٹ نہیں ڈالا۔

ڈھاکہ کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ 55 سالہ محمد ہارون نے 17 برس بعد ووٹ ڈالنے کو  انتہائی خوشی کا لمحہ  قرار دیا، جب کہ جینب لطف النہر نے کہا کہ 2008 میں وہ آخری بار ووٹ ڈالنے آئی تھیں، آج میری بیٹی 17 سال کی ہو چکی ہے اور میں دوبارہ ووٹ دے رہی ہوں،یہ ایک بااختیار احساس ہے۔

مزید پڑھیں: کیا نہید اسلام بنگلہ دیش میں ’جولائی انقلاب‘ کے بعد حقیقی تبدیلی کی علامت بن سکتے ہیں؟

انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار الیکٹورل سسٹمز کے مطابق بنگلہ دیش میں اوسط ٹرن آؤٹ 53 فیصد رہتا ہے، جب کہ 2008 میں یہ 87 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ بعد ازاں اپوزیشن کے بائیکاٹ اور دھاندلی کے الزامات کے باعث شرکت میں کمی آئی۔

رائے عامہ کے متضاد جائزوں کے باوجود بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو برتری دی جا رہی ہے۔ 60 سالہ طارق رحمن، جو 17 برس کی جلاوطنی کے بعد دسمبر میں برطانیہ سے واپس آئے، نے ڈھاکہ کے گلشن ماڈل اسکول اینڈ کالج میں ووٹ ڈالا اور کہا کہ عوام طویل انتظار کے بعد آج اپنے آئینی حق کا استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ اقتدار میں آ کر امن و امان کی بہتری اولین ترجیح ہو گی۔ انہیں وزیر اعظم بننے کے لیے پارلیمنٹ میں 50 سے زائد نشستوں کی ضرورت ہوگی۔ بی این پی اتحاد میں بائیں بازو، اعتدال پسند اور چھوٹی مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔


دوسری جانب جماعت اسلامی، جو سابق حکومت کے دوران سخت دباؤ کا شکار رہی، 11 سے زائد جماعتوں کے اتحاد کے ساتھ میدان میں ہے۔

جماعت کے امیر شفیق الرحمن اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں، جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہے، یہ وہ طلبہ رہنما ہیں جنہوں نے 2024 کی تحریک میں کردار ادا کیا تھا۔

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ، جو اس وقت انڈیا میں مقیم ہیں، کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ ان کی جماعت عوامی لیگ کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی۔

حسینہ اور ان کے حامیوں نے  نو بوٹ، نو ووٹ  کے نعرے کے تحت انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ گوالپارا اور ٹنگی پارہ جیسے عوامی لیگ کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں کم ٹرن آؤٹ کی اطلاعات ملیں۔ ایک مقامی رپورٹ کے مطابق بعض پولنگ مراکز صبح کے اوقات میں تقریباً خالی دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا بی این پی رہنما طارق رحمان شیخ حسینہ کے بعد بنگلہ دیش میں متوقع تبدیلی لا سکتے ہیں؟

حکام کے مطابق منگل کو نیتروکونا میں چند پولنگ مراکز کو نذر آتش کیا گیا، جسے کمیشن نے  الگ تھلگ واقعہ  قرار دیا۔ تاہم گوالپارا کے ایک پولنگ اسٹیشن پر دھماکہ خیز مواد پھینکے جانے سے دو نیم فوجی اہلکار اور ایک 14 سالہ بچی زخمی ہو گئی۔ پولیس کے مطابق مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا اور ووٹرز میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق 11 دسمبر سے 9 فروری تک انتخابی مہم کے دوران سیاسی جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوئے۔

انسانی حقوق کی تنظیم  عین و شالش کیندر  کے مطابق اگست 2024 سے دسمبر 2025 کے درمیان سیاسی تشدد میں 158 افراد جان سے گئے اور 7 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش نے جماعتوں پر ہجوم اکٹھا کرنے اور سڑکیں بند کرنے کے الزامات کے ساتھ امن و امان پر تشویش ظاہر کی ہے۔

لازمی پڑھیں: بنگلہ دیش، عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی پوزیشن کیسی ہے؟

نوبل امن انعام یافتہ 85 سالہ محمد یونس، جو مظاہرین کی اپیل پر جلاوطنی ختم کر کے نگران حکومت کی قیادت کے لیے واپس آئے، نے ووٹ ڈالنے کے بعد اسے  نئے بنگلہ دیش کی تشکیل کا تاریخی لمحہ  قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور آمرانہ حکومت کی واپسی روکنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انتخابات کے بعد وہ عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ انتخابات کے نتائج پر علاقائی طاقتوں کی گہری نظر ہے۔ شیخ حسینہ کے دور میں انڈیا کے ساتھ قریبی تعلقات رہے، تاہم حالیہ عرصے میں کشیدگی بڑھی ہے۔

محمد یونس نے پہلا سرکاری دورہ چین کا کیا، جسے سفارتی سمت میں تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جب کہ ڈھاکہ نے پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات میں وسعت کی کوششیں کی ہیں۔

ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنوں پر گہماگہمی اور جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ 17 برس بعد پہلا حقیقی مسابقتی انتخاب ہے۔

اگرچہ خواتین امیدواروں کی شرح تقریباً چار فیصد ہے اور جمہوری عمل مکمل نہیں، تاہم اسے طویل عرصے بعد ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔