میڈیا بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے ایرانی مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ تہران اس معاہدے کو اپنے خلاف کسی اقدام کے طور پر نہیں دیکھتا۔
ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ امریکا کی موجودگی اور اس کی پالیسیوں کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی ممکنہ حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ اگر کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہ ہو تو اس اہم بحری گزرگاہ میں آمدورفت بحال کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے عمان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں امریکا شامل نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے اسے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ خطے میں کشیدگی کے دوران اس راستے کی سلامتی اور بحری آمدورفت عالمی منڈیوں کے لیے بھی اہم معاملہ بن جاتی ہے۔
امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الوقت دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہورہے۔
انہوں نے بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کے تبادلے کے لیے ثالثوں کا سہارا لیا جا رہا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں براہِ راست بات چیت کا سلسلہ شروع نہیں ہوا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جب تک عبوری معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، امریکا کے ساتھ مذاکرات کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی مذاکراتی عمل میں اپنے مفادات اور معاہدوں کی پاسداری کو اہمیت دیتا ہے۔
اسماعیل بقائی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال اور علاقائی طاقتوں کے درمیان دفاعی تعاون پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کو خطرہ نہ قرار دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اس تعاون کو فی الحال براہِ راست ایران مخالف دفاعی اتحاد کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔
ایرانی ترجمان نے ایک مرتبہ پھر امریکا کی علاقائی موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور سلامتی کے لیے بیرونی مداخلت سے گریز ضروری ہے۔
ان کے مطابق خلیجی ممالک کو بھی اس حوالے سے محتاط پالیسی اختیار کرنی چاہیے اور اپنی سرزمین کو کسی ایسے اقدام کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے جو خطے میں مزید کشیدگی کا سبب بنے۔
ایرانی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک طرف خطے میں دیگر ممالک کے دفاعی تعاون کو براہِ راست خطرہ قرار دینے سے گریز کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا کی موجودگی اور اس کی علاقائی پالیسیوں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔







