یہ صرف ایک آفیسر کا چہرہ نہیں تھا بلکہ پورے پنجاب کی تصویر تھی جو فلٹر کرکے سوشل میڈیا پر پیش کی جارہی ہے۔ 

ان لوگوں کا ایسا رویہ کیوں ہوتا ہے؟ یہ عام آدمی کو دبانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ اس بات کی سمجھ تب آئی جب لاہور میں بھاٹی گیٹ کے کھلے نالے میں ڈوبنے والے شورکوٹ کے ماں، بیٹی کا واقعہ پیش آیا، ڈوب کر مرنے والی سعدیہ کے شوہر بتاتے ہیں کہ 

’جب میں بیوی اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے کے لیے پولیس اسٹیشن گیا تو پولیس نے مجھے ہی حراست میں لے لیا، ایس پی  اور ایس ایچ او زین نے مجھ پر تشدد کیا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ میری بیوی کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں تھی اس کے ساتھ سیر کے لیے آیا تھا، میں نے بتایا کہ دونوں کو اپنی آنکھوں سے گرتے دیکھا، ایس پی اور ایس ایچ او کہتے تھے تم جھوٹ بول رہے ہو، پولیس نے میرا موبائل فون بھی لے لیا تھا، جب واقعہ ہوا ایک بیٹا والدہ کے پاس تھا۔

ایس پی اور ایس ایچ او یہ کہتے رہے ’یہ کہو کہ تم نے اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے‘۔ پولیس مجھ سے دونوں کا قتل زبردستی منوانا چاہتی تھی، پولیس نے میرے ساتھ میرے کزن تنویر کو بھی پکڑا ہوا تھا۔

سوشل میڈیا پر شور نہ مچتا، لاہور کے رپوٹرز اصل حقائق عوام کے سامنے نہ لاتے تو پنجاب حکومت کی ترجمان تو اسے ’فیک اطلاع‘ قرار دے کر فیک نیوز قرار دے چکی تھیں جس کی بعد میں انہوں نے معافی بھی مانگی۔ 

چند دن پہلے عظمیٰ بخاری نے اپنے نا پسندیدہ صحافیوں کو ’کالی بھیڑیں‘ قرار دیا تھا اور مکمل طور پر کمیونٹی کے انتخابات پر اثرانداز ہوئیں۔ 

قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کالی بھیڑیں کہاں ہیں؟ کس جگہ ہیں اور کیوں ہیں؟ 

ایک اندازے کے مطابق پنجاب میں امن و امان (Law and Order) کی صورتحال اس وقت ایک حساس اور اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں صوبے کے مختلف حصوں سے ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن سے شہری سہمے سہمے نظر آتے ہیں۔

جنوبی پنجاب (خاص طور پر رحیم یار خان اور راجن پور) کے کچے کے علاقے پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ 

ڈاکوؤں کے پاس جدید اسلحہ کی موجودگی اور ان کے خلاف ہونے والے آپریشنز میں خاطر خواہ کامیابی نہ ملنا تشویشناک ہے۔ حالیہ دنوں میں پولیس اہلکاروں پر حملوں اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بڑے شہروں، بالخصوص لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں سٹریٹ کرائم (موبائل چھیننا، ڈکیتی اور راہزنی) کی شرح بڑھی ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری جرائم میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ نوجوان نسل میں آئس اور دیگر منشیات کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس خودکشیاں کررہے ہیں۔ صوبے میں سیاسی کشمکش اور احتجاج ہورہا ہے، جبکہ انتظامیہ ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف ہے۔ پیکا جیسے کالے قوانین کے خوف کے باعث ہزاروں جرائم ایسے ہیں جو رپورٹ نہیں ہوتے۔ 

میڈم سی ایم، بھاٹی گیٹ کا واقعہ آپ کے لیے ٹیسٹ کیس تھا جس میں آپ ناکام رہی ہیں، اپنی سہیلی کو بچالیا مگر اپنی نیک نامی پر بڑا سوال چھوڑدیا ہے جو آپ کے جانے تک آپ کا پیچھا کرتا رہے گا۔ 

جتنی قصوروار انتظامیہ ہے اس سے زیادہ قصور پردہ ڈالنے والوں کا ہے، غلط بیانی کرنے والوں کا ہے، صرف لاہور پنجاب نہیں ہے، رحیم یار خان بھی پنجاب ہے، فیصل آباد سے بھکر بھی پنجاب ہے، میڈیا پر لگی قدغن اتر جائے تو پنجاب بھی آپ کو کراچی جیسا نظر آئے۔ 

جب تک میک اپ زدہ کالی بھیڑیں پنجاب میں موجود ہیں سڑکوں، گلیوں سے گندگی اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر