سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کامل خان نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ سے گہری وابستگی اور محبت کے باعث سیالکوٹ سٹالینز کی قیادت کا حصہ بنے اور کرکٹنگ معاملات کی ذمہ داری سنجیدگی اور خلوص نیت سے ادا کی۔
انہوں نے کہا کہ مختصر عرصے میں ٹیم نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ آسٹریلوی بیٹر اسٹیو اسمتھ کو ٹیم کا حصہ بنانا ایک بڑی پیش رفت تھی، جب کہ سابق آسٹریلوی کپتان ٹم پین کو اہم ذمہ داری سونپی گئی۔
کامل خان نے کہا کہ اس کے علاوہ عالمی سپورٹس برانڈ نیو بیلنس کے ساتھ شراکت داری سے ٹیم کی برانڈ ویلیو اور مارکیٹ پوزیشن مضبوط ہوئی۔
کامل خان کا کہنا تھا کہ بعض انتظامی فیصلوں اور پالیسی امور پر غور کے بعد انہوں نے ٹیم سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ فوری نہیں تھا بلکہ کچھ عرصہ قبل کیا جا چکا تھا، تاہم باضابطہ علیحدگی سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ ٹیم مستحکم انتظامیہ کے حوالے ہو۔
یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد کنگز مین نے جارح مزاج بیٹر گلین میکسویل کو ٹیم میں شامل کر لیا
یاد رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر اس وقت تنازعہ سامنے آیا تھا جب ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں محمد شاہد نامی شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ آسٹریلیا میں کاروبار کرتے ہیں اور سیالکوٹ سٹالینز کے 76 فیصد شیئرز کے مالک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام دستاویزات پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو جمع کروائی جا چکی ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد فرنچائز کی انتظامی صورتحال اور ملکیتی ڈھانچے سے متعلق مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔







