ایک 50 ہزار ڈالر کے ڈرون کو گرانے کے لیے 12 ملین ڈالر جھونکے جا رہے ہیں اور پھر بھی طاقتور ممالک کی بے چینی ختم نہیں ہو رہی، یہ ہے جدید جنگ کا نیا توازن۔

صرف امریکا اپنا اسلحہ کی نہیں جھونک رہا مشرق وسطیٰ سے اس کے ایک لاکھ 75 ہزار شہری بھی نکل چکے ہیں۔ 

ایران نے ایک سادہ، سستا مگر مؤثر ہتھیار بنایا شاہد 136 ڈرون۔ قیمت؟ صرف 20 سے 50 ہزار ڈالرز۔ سائز؟ ایک پک اپ کے پیچھے سما جائے۔ مگر اثر؟ تیل کے کنویں، فوجی اڈے، حساس تنصیبات سب نشانے پر۔

روزانہ سینکڑوں کی پیداوار، ہزاروں کا ذخیرہ، کم لاگت، زیادہ اثر، یہی جدید جنگ کا اصول بنتا جا رہا ہے۔

اب دوسری طرف دیکھیے۔ امریکا دفاع کے لیے استعمال کرتا ہے THAAD۔ ایک ایسا میزائل جس کی قیمت تقریباً 12 سے 13 ملین ڈالر ہے۔ پھر ہے MIM-104 Patriot سسٹم۔ فی شاٹ تقریباً 3 سے 4 ملین ڈالر۔

یعنی ایک سستا ڈرون آئے اور اسے روکنے کے لیے کروڑوں ڈالر جلائے جائیں۔ اکثر ایک میزائل کافی نہیں ہوتا، دو، تین داغنے پڑتے ہیں۔

ایک ڈرون روکنے کی قیمت 25 سے 30 ملین ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔ یہ صرف دفاع نہیں، یہ مالیاتی دباؤ ہے۔

خلیجی ممالک نے ابتدائی حملوں میں اربوں ڈالر صرف فضائی دفاع پر خرچ کیے۔ جب کہ حملہ آور نے نسبتاً چند سو ملین میں اپنے مقاصد حاصل کیے۔

ہر ایک ڈالر کے جواب میں 15 سے 30 ڈالر خرچ کروانا، شاید یہی ایران کی اصل اسٹریٹجی ہے۔

اور مزید دلچسپ بات سنیں! امریکا نے خود کم لاگت ڈرون پروگرام شروع کیا، LUCAS drone، تقریباً 30 سے 40 ہزار ڈالر فی یونٹ۔ یعنی جس ٹیکنالوجی کو روکنے کے لیے اربوں خرچ ہو رہے تھے، آخرکار اسی ماڈل کو اپنانا پڑا۔

اسے کیا کہیں گے؟ اسٹریٹجک یو ٹرن؟ یا میدانِ جنگ کی نئی حقیقت؟

ایران ایک دہائی سے بڑے پیمانے پر پیداوار کر رہا ہے، ٹیکنالوجی شیئر کر رہا ہے، اتحادی گروہوں کو مضبوط کر رہا ہے اور مخالفین کو اخراجات کے دلدل میں دھکیل رہا ہے۔

اصل مسئلہ صرف جنگ نہیں، اصل مسئلہ معیشت ہے کیونکہ مہنگا دفاع، ہمیشہ پائیدار نہیں ہوتا، اب جنگ صرف بارود سے نہیں لڑی جاتی بلکہ کیلکولیٹر سے لڑی جاتی ہے۔ جو کم خرچ میں زیادہ نقصان پہنچا دے، وہی جدید دور کا اسٹریٹجک فاتح کہلائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت، سرخ لکیر عبور ہوگئی؟

یہ جنگ ایران کے لیے بقا کا مسئلہ بن گئی ہے۔ ایرانی اپنی بقا کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ایران اس جنگ سے کیا چاہتا ہے؟

اپنی جنگی حکمت عملی سے ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر موجودہ اقتدار خطرے میں پڑا تو پورا خطہ غیر مستحکم ہو جائے گا۔ اس میں خاص طور پر توانائی کی تنصیبات (تیل اور گیس کے ذخائر) کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ایران اس اہم بحری راستے کو بند کر کے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا چکا ہے۔ بین الاقوامی برادری معاشی دباؤ کے تحت جنگ بندی پر مجبور ہوسکتی ہے۔ 

امریکا اور اسرائیل کی فضائی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران مزاحمتی بلاک اور اندرونی سیکیورٹی کے ڈھانچے کو استعمال کر رہا ہے تاکہ دشمن کو طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں الجھایا جا سکے۔

 تہران نے اندرونی خلفشار اور غیر ملکی مداخلت کو روکنے کے لیے سرحدی علاقوں جیسے کردستان میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔

ایران زیادہ سے زیادہ مخالفین کا معاشی نقصان چاہتا ہے، ایرانی قیادت کو مارنے کے باوجود  تہران میں حکومت کی تبدیلی اتنی آسان نہیں ہوگی جتنی سمجھی جارہی تھی۔ امریکا، اسرائیل  اگر ایسا کرنے کی کوشش کریں گے تو پوری دنیا کو اس کا بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر