مئی 2026 کے ان نازک حالات میں جب ریاست کو داخلی اور خارجی محاذوں پر غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے، ایک نئی آئینی مداخلت نے یہ سوال شدت سے پیدا کر دیا ہے کہ کیا ہماری سیاسی قیادت واقعی عوامی مسائل کا حل چاہتی ہے یا اس ساری تگ و دو کا مقصد صرف اپنی حکمرانی کے ستونوں کو مضبوط بنانا ہے۔

اسلام آباد کی سیاسی راہداریوں میں زیرِ گردش یہ مسودہ دراصل اس کشمکش کا تسلسل ہے جو 26ویں اور 27ویں ترامیم کے ذریعے شروع ہوئی تھی اور اب اپنے منطقی انجام کی تلاش میں ہے۔

اس مجوزہ ترمیم کا ایک نمایاں مثبت پہلو بلدیاتی اداروں کو آئینی طور پر بااختیار بنانے کی وہ کوشش ہے جس کی وکالت ایم کیو ایم پاکستان اور دیگر ترقی پسند حلقے برسوں سے کر رہے ہیں۔ اگر آرٹیکل 140-A کو اس ترمیم کے ذریعے ایسی مضبوطی مل جاتی ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی فنڈز اور اختیارات پر غاصبانہ قبضہ نہ کر سکیں، تو یہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی سے نہ صرف گلی محلوں کے مسائل حل ہوں گے بلکہ عام آدمی کا ریاست پر اعتماد بھی بحال ہوگا، جو اس وقت بیوروکریسی اور مرکزیت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

یہ پہلو اس ترمیم کو  اصلاحات کی راہ  ثابت کرنے کے لیے سب سے مضبوط دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس کے برعکس ترمیم کے منفی پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے تو عدلیہ کے ڈھانچے میں مزید تبدیلیوں اور انتظامی مداخلت کے خدشات نے ایک خوفناک تصویر کشی کی ہے۔

قانونی ماہرین کا ایک بڑا طبقہ اسے عدلیہ کی آزادی پر آخری وار قرار دے رہا ہے، کیونکہ مجوزہ نکات کے مطابق اعلیٰ عدالتوں کے انتظامی معاملات اور ججوں کی تعیناتی کے عمل میں پارلیمان کا کردار اتنا بڑھا دیا جائے گا کہ ججوں کی آزادانہ رائے کے بجائے ان کی سیاسی وفاداریاں زیادہ اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔

عدل کے ایوانوں میں اگر سیاسی اثر و رسوخ اس حد تک سرایت کر گیا، تو انصاف کا وہ تصور ہی ختم ہو جائے گا جو کسی بھی ریاست کی بقا کے لیے ناگزیر ہے اور یہ عمل  اختیارات کی نئی جنگ  کو جنم دے گا۔

ایک اور سنگین منفی پہلو اٹھارویں ترمیم کے تحت حاصل ہونے والی صوبائی خود مختاری کے گرد گھومتا ہے، جس کے بارے میں وفاق کی مقتدر قوتیں اب یہ رائے رکھتی ہیں کہ اس نے مرکز کو معاشی اور انتظامی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 28ویں ترمیم کے پردے میں وفاق بعض اہم شعبوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، جو چھوٹے صوبوں میں احساسِ محرومی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔

اگر صوبوں کے وسائل اور ان کے اختیارات پر دوبارہ وفاقی گرفت مضبوط کی گئی تو یہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اس ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے گا جو بڑی مشکل سے گزشتہ دو دہائیوں میں پیدا ہوئی ہے اور یوں یہ ترمیم اصلاح کی بجائے انتشار کا باعث بن جائے گی۔

سیاسی میدان میں اس ترمیم کا اثر ایک بار پھر تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان خلیج کو ناپید کر رہا ہے، کیونکہ اپوزیشن اسے عمران خان اور ان کی جماعت کے خلاف ایک  قانونی گھیرا  تصور کر رہی ہے۔

اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان ترامیم کا مقصد عوامی مفاد نہیں بلکہ سیاسی حریفوں کو انتخابی اور قانونی عمل سے باہر رکھنا ہے، جس سے ملک میں سیاسی استحکام کی امید دم توڑتی نظر آتی ہے، جب تک ترامیم کا مقصد کسی فردِ واحد یا جماعت کو نشانہ بنانا ہوگا، وہ کبھی بھی قومی مفاہمت کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔

یہ صورتحال ملک کو ایک ایسے بند گلی کی طرف لے جا رہی ہے جہاں آئین سازی عوامی خدمت کے بجائے محض ایک سیاسی ہتھیار بن کر رہ گئی ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم اگر صرف بلدیاتی نظام کی بہتری اور انتظامی شفافیت تک محدود رہتی ہے، تو یہ پاکستان کے لیے ایک نئی اور روشن راہ متعین کر سکتی ہے، لیکن اگر اس کے پسِ پردہ مقاصد عدلیہ کو مفلوج کرنا اور صوبائی اختیارات سلب کرنا ہوئے، تو یہ ملک میں ایک ایسے نئے بحران کو جنم دے گی جسے سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔

مئی 2026 کا یہ سیاسی منظرنامہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت نئی ترامیم سے زیادہ پہلے سے موجود آئین کی بالادستی اور اس پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

اقتدار کی اس جنگ میں اگر آئین کی حرمت پامال ہوئی، تو تاریخ کبھی ان کرداروں کو معاف نہیں کرے گی جو اصلاحات کے نام پر قومی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے ذمہ دار ٹھہریں گے۔

تحریر: رضوان حیدر

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر