‎یہ وہ طبقہ ہے جو صبح رات کی محنت کرتا ہے لیکن شام کو جب گھر لوٹتا ہے تو اکاؤنٹ منفی یا صفر پر ہی بند ہوتا ہے۔ ماضی میں یہ رقم ایک چھوٹے خاندان کی عزتِ نفس کے ساتھ گذارا چلانے کے لیے کافی مانی جاتی تھی، لیکن آج یہ عدالت کے سامنے پیش کردہ دستاویز کی طرح ہے جو دعویٰ تو بہت کچھ کرتی ہے مگر ثبوت اس کے برعکس ملتے ہیں۔

اس جدید معاشی منظر نامے میں اگر ہم خیالی طور پر پنجاب یا سندھ کے مضافاتی علاقے میں بسنے والے پانچ رکنی خاندان کا مطالعہ کریں، تو صورتحال حیران کن حد تک تشویشناک نمودار ہوتی ہے۔ اس خاندان کا اہم ترین مسئلہ خوراک کا ہے؛ جہاں آٹا، چاول، دالیں، گھی اور سبزیاں ایک دوسرے کی مسابقت کر رہی ہیں، وہاں ۱۷ سے ۱۸ ہزار روپے مختص کرنا بھی ایک مشکل امتحان ہے۔
 یہ رقم شاید اتنی ہی ہو کہ خاندان پیٹ تو بھر سکے مگر غذائی ضروریات کی کمی محسوس نہ ہو، البتہ گوشت یا فصلی اشیاء کا انتخاب محدود ہو جاتا ہے۔ اس کے فوراً بعد آنے والا دوسرا بڑا وار بجلی کا بل ہے، خاص طور پر جون کا مہینہ جب درجہ حرارت چڑھتا ہے اور پنکھے اور کولرز کی کھنکتی آوازوں کے درمیان بجلی کا بل 4 سے 5 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے، جو کہ ایک معمولی چھوٹے بجٹ کے لیے سنگین نقصان دہ ہے۔
گیس کا خرچہ جو عام طور پر 15سو سے 2 ہزار روپے کے درمیان رہتا ہے، نیز گھر کا کرایہ جو کہ مہنگے میٹرو پولیٹن شہروں کے کنارے یا چھوٹے شہروں میں 10 سے 12 ہزار روپے بنتا ہے، یہ دونوں عامل مل کر خاندان کی جیب کو دو لقمہ کر دیتے ہیں۔ نقل و حمل کا خرچہ، یعنی پٹرول یا بسیں/ریل کا ٹکٹ، جس پر 5 سے 6 ہزار روپے مختص کرنے پڑتے ہیں، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کو کام کرنے کے لیے خود کو حرکت دینے کے لیے بھی مال بردار ہونا پڑتا ہے۔
بچوں کی تعلیم جو کہ 3 سے 5 ہزار روپے آتی ہے، موبائل اور انٹرنیٹ بل جو 3 سے 4 ہزار روپے کا ہے، اور ادویات و دیگر غیر متوقع اخراجات جن پر 4 سے 5 ہزار روپے درکار ہوتے ہیں، ان تمام اجزاء کو جمع کرنے سے کل ماہانہ اخراجات 51 ہزار سے 53 ہزار روپے کا ہندسہ عبور کر جاتے ہیں۔
اس حساب کتاب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ 50 ہزار روپے کی آمدنی پر چلنے والا گھر درحقیقت ہر ماہ ایک ہزار سے 3 ہزار روپے کا خسارہ دیکھتا ہے۔ یہ خسارہ کسی نہ کسی طرح قرضے یا زیورات کی فروخت سے پورا کیا جاتا ہے، جو کہ طویل مدت میں غلامی کے سلسلے کو مضبوط کرتا ہے۔
اس بجٹ میں نہ صرف کوئی بچت ممکن نہیں بلکہ بیماری یا مصیبت جیسے واقعات خاندان کو بربادی کے کنارے لے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا آنے والا وفاقی بجٹ اس طبقے کے لیے کوئی راہِ نجات ثابت ہوگا؟

‎معاشی تجزیہ کاروں کے نزدیک حکومت کے پاس وسیع پیمانے پر سبسڈی دینے کا بجٹ نہیں ہے، کیونکہ مالی خسارہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  کی سخت شرائط موجود ہیں۔ تاہم، چند انتہائی مخصوص اقدامات جیسے کہ بنیادی اشیائے خورونوش پر ٹیکسوں میں کمی، تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں مراعات، یا بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں مستحکم رویہ عام آدمی کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے، تاریخ گواہ ہے کہ بیشتر بجٹ "مالی نظم و ضبط" کے نام پر عوام پر بوجھ ڈالتے ہیں۔
 اگر آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں کا بوجھ مزید بڑھایا گیا یا پاور سیکٹر کے مسائل حل نہ ہو سکے، تو 50 ہزار روپے والے طبقے کی زندگی مزید دشوار تر ہو جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ آج 50 ہزار روپے ماہانہ آمدنی، جو کہ سابقہ برسوں میں "درمیانے طبقے" کی علامت سمجھی جاتی تھی، آج محض "بقا" کی علامت بن چکی ہے۔ جب تک دولت کی تقسیم میں انقلابی تبدیلی نہیں آتی اور روزگار کے مواقع نہیں بڑھتے، یہ شرحِ مہنگائی اور محدود آمدنی کا مقابلہ ایک ناقابلِ تسلی اور خطرناک توازن قرار پائے گا۔ 

‎حقیقت یہ ہے کہ آج پاکستان میں پچاس ہزار روپے ماہانہ آمدنی ایک خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی محسوس ہونے لگی ہے۔ جب تک آمدنی میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی نہیں آتی، عام آدمی کا بجٹ مسلسل دباؤ کا شکار رہے گا۔ آنے والا وفاقی بجٹ اس دباؤ کو کم کرتا ہے یا مزید بڑھاتا ہے، اس کا فیصلہ حکومتی اعلانات اور عملی اقدامات ہی کریں گے۔ 

‎عوام کی امیدیں اس بجٹ سے وابستہ ہیں مگر تجربہ بتاتا ہے کہ حقیقی ریلیف تب ہی ممکن ہے جب حکومت معیشت کی اصل جڑوں یعنی توانائی اور پیداواری لاگت کو درست کرے۔
تحریر: رضوان حیدر (صحافی)

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر