پھر 23 فروری 1938 میں زمین کے نیچے سے تیل نکلا اور یہ صرف تیل نہیں تھا بلکہ اس نے کویت کی تقدیر بدل دی۔ چند دہائیوں میں تیل کی برآمدات نے معیشت کو ایسی رفتار دی کہ حکومت نے نہ صرف اپنی آمدنی میں بے مثال اضافہ کیا بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط مالی نظام بھی قائم کیا۔

لیکن صرف تیل کافی نہیں تھا کیونکہ بہت سے تیل پیدا کرنے والے ممالک آج بھی معاشی مشکلات کا شکار ہیں وینزویلا ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔

کویت نے فرق یہ پیدا کیا کہ اس نے اپنی دولت کو سنبھالا غیر ملکی سرمایہ کاری حصہ لیا اور ایک خودمختار ویلتھ فنڈ قائم کیا اور مرکزی بینک نے کرنسی کو صرف امریکی ڈالر سے نہیں بلکہ اہم عالمی کرنسیوں کے ایک باسکٹ سے منسلک کر دیا۔

2007 کے بعد اپنائی گئی اس پالیسی نے درآمدی مہنگائی کے اثرات کم کیے اور کویتی دینار کو غیر معمولی استحکام دیا۔ 2026 میں کویتی دینار دنیا کی سب سے مضبوط کرنسی ہے۔ ایک کویتی دینار تقریباً 3.26 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ یعنی پاکستانی روپوں میں ایک کویتی دینار نو سو روپے سے بھی زیادہ کا ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کویت کا دینار تیل، سیاسی استحکام اور معاشی اصلاحات کی وجہ سے اتنا مضبوط ہو سکتا ہے تو کیا ایران کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے؟

یہ سوال اس وقت پھر زیر بحث آیا جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور پابندیوں میں نرمی کی خبریں سامنے آئیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں لوگوں نے ایرانی ریال خریدنا شروع کر دیا اس امید پر کہ اگر پابندیاں ختم ہو گئیں تو ریال کی قدر دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔

اس امید کی ایک تاریخی مثال بھی موجود ہے۔ 2016 میں جب امریکا نے ایران پر عائد بعض پابندیاں نرم کیں تو پاکستانی مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت تقریباً 10 سے 12 ہزار روپے سے بڑھتے بڑھتے تقریباً 60 ہزار روپے تک جا پہنچی۔

بہت سے سرمایہ کاروں کو لگا کہ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے گا، لیکن 2018 میں امریکا کی نئی پابندیوں نے یہ سفر اچانک روک دیا اور ریال دوبارہ شدید دباؤ کا شکار ہو گیا۔

اب ایک بار پھر یہی بحث شروع ہو چکی ہے۔ کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟ پاکستان میں اس وقت ایرانی ریال خریدنے کا شوق بڑھا ہوا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ 2016 والا معاملہ دہرائے گا جب ریال کئی گنا بڑھ گیا تھا۔

اگر ایران پر سے معاشی پابندیاں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہیں، منجمد اثاثے بحال ہوتے ہیں اور عالمی تجارت دوبارہ کھلتی ہے تو ایرانی ریال میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم ایک بات غور طلب ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے یا دوبارہ جنگ چھڑ گئی تو ریال دوبارہ تیزی سے گر سکتا ہے۔

یعنی اس کہانی کا دوسرا رخ بھی ہے۔ سرمایہ کاری ہمیشہ امید پر نہیں، خطرے کو سمجھ کر کی جاتی ہے۔ اگر پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو ایران کی تیل کی برآمدات غیر ملکی سرمایہ کاری، بینکاری نظام اور صنعتی پیداوار بہتر ہو سکتی ہے جس سے ریال کو سہارا مل سکتا ہے۔

پاکستان کو بھی سستی گیس، سرحدی تجارت، گیس پائپ لائن منصوبے اور نئی برآمدی منڈیوں کی صورت میں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر سیاسی صورتحال دوبارہ خراب ہو گئی تو یہی سرمایہ کاری چند دنوں میں بھاری نقصان میں بھی بدل سکتی ہے۔

اسی لیے اگر کوئی ایرانی ریال میں سرمایہ کاری کرنا چاہے تو اسے صرف محدود رقم مختصر مدت اور مکمل رسک کو ذہن میں رکھ کر یہ فیصلہ کرنا چاہیے۔ کسی بھی صورت اسے راتوں رات امیر ہونے کا فارمولا نہیں سمجھنا چاہیے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایران بھی آنے والے برسوں میں یہی راستہ اختیار کر پاتا ہے یا ریال کی موجودہ تیزی صرف ایک عارضی لہر ثابت ہوتی ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر