گھر والوں نے مجھ سے رابطہ کیا، شاید اس امید پر کہ صحافی ہونے کے ناطے کچھ اثر و رسوخ کام آ جائے گا اور مریض کوبر وقت پر داخلہ مل جائے گا۔ خیر، رات گئے ایڈمیشن ہو گیا، مگر اصل کہانی تو اگلے دن سے شروع ہوئی۔
اکیس جون کی صبح ڈاکٹروں نے مریض کو دیکھا اور کچھ ٹیسٹ تجویز کیے، جن میں ایک بائیوپسی اور ایک الٹراساؤنڈ شامل تھا۔ ڈاکٹر نے اپنے سسٹم میں یہ ٹیسٹ آن لائن انٹری کر دیے اور ہم اپوائنٹمنٹ لینے نیچے کاؤنٹر کی طرف چلے گئے۔
وہاں پہنچے تو ایک لمبی قطار پہلے سے موجود تھی۔ خود قطار میں کھڑا ہوا، تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کے بعد باری آئی، سلپ کاؤنٹر پر موجود عملے کو دی۔ انہوں نے کمپیوٹر میں انٹر کیا تو کہنے لگے کہ آپ کی تفصیلات آنلائن درج نہیں، دوبارہ اوپر جا کر ڈاکٹر سے آن لائن انٹری کروائیں تاکہ سلپ بن سکے۔
حیرانی کی بات یہ تھی کہ ابھی چند لمحے پہلے ہی ڈاکٹر نے میرے سامنے یہ انٹری مکمل کی تھی۔ خیر، اوپر گیا، ڈاکٹر نے بھی تصدیق کی کہ انٹری ہو چکی ہے، پتہ نہیں نیچے والوں کو کیا مسئلہ ہے۔ ایک بار پھر نیچے آیا، دوبارہ اسی لمبی قطار میں لگنا پڑا۔
وقت ضائع ہوتا دیکھ کر آخر کار میں نے اپنے ایک جاننے والے کو کال کی۔ وہ صاحب اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر میرے پاس آئے، مجھ سے سلپ لی اور سیدھا کاؤنٹر کے اندر چلے گئے، کیونکہ وہاں کا عملہ ان کا جاننے والا تھا۔ پانچ دس منٹ میں ریسیپشنسٹ نے وہی سلپ لی اور فوراً انٹر کر دی، جب کہ عام حالت میں مجھے یہ کہہ کر واپس بھیجا جا رہا تھا کہ دوبارہ آن لائن کرواؤ۔
اس دن وہاں ڈیڑھ دو سو کے قریب لوگ قطار میں کھڑے تھے، سب اپنے پیاروں کے علاج کے لیے پریشان، مگر عملے کا رویہ کسی اپنی مرضی کے فیصلے جیسا تھا، جس کو چاہیں کام کر دیں، جس کو چاہیں گھنٹوں لٹکائے رکھیں۔ کوئی وردی والا محافظ، کوئی ہیلپ ڈیسک، کوئی ایسا نظام نہیں تھا جو یہ بتا سکے کہ آخر باری کس ترتیب سے آ رہی ہے۔
یہاں تک تو معاملہ سلپ جمع کروانے کا تھا، اصل مسئلہ اس کے بعد سامنے آیا۔ اکیس تاریخ کو ہم نے دونوں ٹیسٹوں کی سلپ جمع کروا دی، مگر جواب میں جو تاریخیں ملیں وہ سن کر ہوش اڑ گئے۔
ایک ٹیسٹ کے لیے ستائیس جون کی تاریخ دی گئی اور دوسرے یعنی الٹراساؤنڈ کے لیے انتیس جون کی۔ مجبوراً میں نے دوبارہ اسی صاحب کو کال کی جن کے ذریعے سلپ جمع ہوئی تھی۔
میں نے صورتحال بتائی تو انہوں نے کہا کہ چونکہ اکیس تاریخ کو ہفتہ اور بائیس کو اتوار تھا، اس لیے چھٹی کا دن نکال کر پیر کے روز وہ خود ٹیسٹ کروا دیں گے۔
لیکن مریض کی حالت ایسی نہیں تھی کہ ہفتہ انتظار کیا جا سکے، ٹیسٹ فوری ہونا ضروری تھے۔ کیونکہ آنتوں کے انفیکشن کے ساتھ شوگر اور بلڈ پریشر بگڑنے کا خطرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔
مریض کی حالت مسلسل نازک ہوتی جا رہی تھی اور اتنا لمبا انتظار کرنا کسی صورت ممکن نہیں تھا، چنانچہ گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔
اتوار کی رات ہی ہسپتال سے ڈسچارج سلپ لے لی گئی اور مریض کو واپس ڈی جی خان لے جایا گیا، جہاں ایک نجی ہسپتال میں اسے فوری طور پر داخل کروایا گیا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو سفر، تکلیف اور قیمتی وقت اس آمد و رفت میں ضائع ہوا، وہ الگ سے مریض کی نازک حالت پر بوجھ بنا۔ جس خاندان کے پاس دوبارہ سفر کر کے نجی ہسپتال جانے کے وسائل نہ ہوں، وہ اسی سرکاری قطار میں ستائیس اور انتیس تاریخ کا انتظار کرنے پر مجبور رہتا ہے، چاہے مریض کی حالت کتنی ہی نازک کیوں نہ ہو۔
اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ چلڈرن ہسپتال کا ہے۔ میرے ایک دوست کی بیٹی کو ٹیومر تھا اور صبح اس کا آپریشن طے تھا۔ بچی کو اے نیگیٹو خون کی ضرورت پڑی اور اتفاق سے میرے ایک دوست کا بلڈ گروپ بھی وہی تھا۔
وہ مجھے ساتھ لے کر ہسپتال گیا تاکہ خون کا عطیہ دیا جا سکے۔ خون دینے سے پہلے جو معمول کا پروسیجر ہوتا ہے، سیمپل لیا گیا، کراس میچنگ اور دیگر ٹیسٹ کیے گئے، لیکن جب رپورٹ آئی تو اس میں لکھا تھا کہ خون میں ملیریا مثبت ہے اور اس بنیاد پر اسے خون دینے سے روک دیا گیا۔
ڈونر یہ بات سن کر پریشان ہوگیا، کیونکہ وہ خود کو بالکل تندرست محسوس کر رہا تھا، نہ بخار تھا نہ کوئی علامت۔ مگر ہسپتال کی رپورٹ کے آگے اس وقت کوئی چارہ نہ تھا اور جس بڑی سرجری کے لیے وہ خون درکار تھا، وہ رک گئی۔
اگلے دن اس نے ایک نجی لیبارٹری سے دوبارہ مکمل سی بی سی اور ملیریا کے ٹیسٹ کروائے اور رپورٹ بالکل صاف آئی، خون میں ملیریا کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک بچی کی اتنی اہم سرجری محض ایک غلط یا ناقص رپورٹ کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی۔ اگر لیبارٹری کا معیار اتنا ناقص ہے کہ ایک صحت مند شخص کا ٹیسٹ غلط رپورٹ دے دے، تو باقی مریضوں کی تشخیص پر بھروسہ کیسے کیا جائے، جن کا پورا علاج ہی انہی ٹیسٹوں کی بنیاد پر طے ہوتا ہے۔
خیر اللہ کی کرنی یہ ہوئی کے ایک ہفتے بعد بچی کی دوبارہ سرجری رکھی گئی اور پھر اسی ڈونر کو خون عطیہ کرنے کا موقع ملا ، کراس میچ ہوا اور رپورٹ کا انتظار کرنے بیٹھ گئے۔
دل ہی دل میں سوچتے رہے کہ اس با ر کوئی نئی بیماری کی تشخیص نا ہو جائے لیکن اللہ نے رحم کیا اور تمام رپورٹس منفی آئیں، اس طرح بچی کا اگلے دن آپریشن کنفرم ہوا ۔
یہ دونوں واقعات الگ الگ ہسپتالوں کے ہیں، الگ الگ مریضوں کے، مگر ایک ہی کہانی سناتے ہیں نظام کی سست روی، عملے کی من مانی، اور صرف تعلق و اثر و رسوخ رکھنے والوں کے لیے آسانی۔
اب اسی تناظر میں ذرا حکومتی دعووں اور بجٹ کے اعداد و شمار پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں، تاکہ معلوم ہو حکومتی دعوے اور ہسپتال میں لگی قطار کے درمیان فاصلہ اصل میں کتنا بڑا ہے۔
رواں مالی سال یعنی 2026-27 کے لیے پنجاب حکومت نے تقریباً 5 ہزار 903 ارب روپے کا مجموعی بجٹ پیش کیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 10.7 فیصد زیادہ بتایا گیا۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اسے عوام دوست بجٹ جب کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اسے امید بجٹ کا نام دیا۔ صحت کے شعبے کے لیے بجٹ دستاویزات میں مجموعی طور پر تقریباً 500 ارب روپے کا اعلان کیا گیا، یہ رقم پچھلے سال سے تقریباً 10 فیصد زیادہ ظاہر کی گئی۔ اس میں سے 100 ارب روپے مفت ادویات کے لیے، جب کہ کینسر کے مریضوں کے لیے خصوصی فنڈنگ کا بھی ذکر کیا گیا۔
لاہور میں نواز شریف کینسر ہسپتال کے لیے تقریباً 20 سے 26 ارب روپے کے درمیان اور بہاولپور میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال کے لیے بھی خطیر رقم رکھی گئی۔
اب اسی بجٹ کی ایک دوسری تصویر بھی دیکھ لیں۔ محکمہ صحت کے اپنے ترقیاتی بجٹ میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 130 ارب روپے کی نمایاں کمی کی گئی، ترقیاتی فنڈز 181 ارب روپے سے کم ہو کر محض 76 ارب 30 کروڑ روپے تک محدود کر دیے گئے، یعنی تقریباً 105 ارب روپے کی کٹوتی۔
غیر ترقیاتی بجٹ بھی 450 ارب سے کم ہو کر 424 ارب 32 کروڑ روپے رہ گیا۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ترقیاتی بجٹ میں اتنی بڑی کٹوتی ہوتی ہے، تو اس کا براہ راست اثر بنیادی مراکز صحت، دیہی ہسپتالوں اور نئی سہولیات کی تعمیر پر پڑتا ہے، یعنی وہی سطح جہاں ڈی جی خان جیسے علاقوں کے مریض علاج کے لیے جاتے ہیں۔
اسی لیے مقامی سطح پر مناسب سہولت نہ ملنے کے باعث انہیں لاہور ریفر کیا جاتا ہے اور لاہور پہنچ کر انہیں وہی طویل قطاریں، وہی سست عملہ، اور وہی کاغذی الجھنیں ملتی ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا۔
دوسری طرف کینسر ہسپتال، میڈیکل ڈسٹرکٹ، اور دیگر بڑے فلیگ شپ منصوبے یقیناً ضروری ہیں، مگر تنقید کرنے والوں کا مؤقف یہی ہے کہ ایسے بڑے نام والے منصوبے اکثر سیاسی برانڈنگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جب کہ دیہی پنجاب کے بنیادی صحت مراکز آج بھی ادویات، عملے اور بنیادی آلات کی شدید قلت کا شکار ہیں۔
عام آدمی کا روزمرہ مسئلہ کسی بڑے کینسر انسٹی ٹیوٹ میں علاج نہیں بلکہ قریبی بنیادی صحت مرکز میں ڈاکٹر اور دوا کی دستیابی ہے، جو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔
یونیورسل ہیلتھ کوریج پروگرام کے لیے بھی صرف 11 ارب 11 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جو مجموعی صحت بجٹ کے مقابلے میں ایک بہت چھوٹی رقم ہے، جب کہ سرکاری ہسپتالوں میں لیبارٹری سہولیات کی بہتری کا وعدہ بھی کیا گیا۔
لیکن جس لیبارٹری رپورٹ کی وجہ سے میرے دوست کو خون دینے سے روکا گیا اور ایک بچی کی سرجری تاخیر کا شکار ہوئی، وہ اسی نظام کی نمائندگی کرتی ہے جس کی بہتری کے دعوے ہر سال بجٹ میں دہرائے جاتے ہیں۔
اگر لیبارٹری سہولیات واقعی بہتر ہو رہی ہوتیں تو ایسی غلط رپورٹس سامنے نہ آتیں اور نہ ہی مریضوں کو نجی لیبارٹریوں کا رخ کرنا پڑتا تاکہ اپنی صحیح تشخیص کا یقین کیا جا سکے۔
یہاں ایک اور دلچسپ نکتہ یہ بھی ہے کہ خود اسی بجٹ کے حوالے سے یہ رپورٹ بھی سامنے آئی کہ گزشتہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا استعمال بھی سست روی کا شکار رہا اور گیارہ مہینوں میں مختص فنڈز کا نصف سے کچھ زائد حصہ ہی خرچ ہو سکا۔ یعنی مسئلہ صرف بجٹ کی کمی کا نہیں بلکہ جو رقم مختص کی بھی جاتی ہے، اس کے بروقت اور مؤثر استعمال کا بھی ہے۔
ایسے میں سوال یہ بنتا ہے کہ جب مختص شدہ رقم بھی وقت پر خرچ نہیں ہو پاتی، تو زمینی سطح پر مریضوں کو اس کا فائدہ کیسے پہنچے گا؟ اسی بجٹ پر تبصرہ کرنے والے کئی حلقوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا یہ واقعی عام آدمی کا بجٹ ہے یا روایتی ترجیحات کا تسلسل؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ صحت اور تعلیم کے بلند بانگ اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ حکومتی شخصیات کے نام پر بننے والے مہنگے منصوبوں کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں، جو بظاہر تعلیم و کھیل سے متعلق ہیں مگر عملاً سیاسی برانڈنگ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
اس تناظر میں یہ بحث بجا طور پر جنم لیتی ہے کہ ترجیحات کہاں رکھی جا رہی ہیں، بڑے فلیگ شپ منصوبوں پر یا عام مریض کی روزمرہ ضرورت پر؟
جب یہ سارے اعداد و شمار سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو تصویر واضح ہو جاتی ہے۔ ایک طرف کروڑوں اربوں روپے کے اعلانات، پریس کانفرنسز اور امید بجٹ جیسے پرکشش نعرے ہیں، تو دوسری طرف ایک نازک حالت مریض کے لیے ہفتہ بھر کا انتظار، غلط لیبارٹری رپورٹس اور عملے کا وہی پرانا رویہ جو صرف تعلق اور ریفرنس کو پہچانتا ہے۔
اگر ترقیاتی بجٹ میں چالیس فیصد کٹوتی ہو، اگر بنیادی صحت مراکز آج بھی عملے اور ادویات سے محروم ہوں، اور اگر مختص شدہ رقم بھی وقت پر خرچ نہ ہو سکے، تو کاغذ پر لکھے گئے اربوں روپے صرف اعداد ہی رہ جاتے ہیں، پسماندہ علاقوں کے ڈاکٹرز سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اے نئی بچدا، اینوں لاہور لے ونجو!
عام آدمی نہ اس کے پاس ریفرنس ہوتا ہے، نہ اثر و رسوخ، اسے صرف انتظار کرنا ہوتا ہے، چاہے وقت کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو اور چاہے زندگی اور موت کا مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔
جب تک بجٹ کے اعلانات اور ہسپتال کے فرش پر لگی قطاروں کے درمیان یہ فاصلہ موجود رہے گا، دعوے چاہے کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں، عام مریض کی کہانی وہی رہے گی جو ڈی جی خان سے آئے اس مریض کی اور چلڈرن ہسپتال میں خون دینے والے اس دوست کی ہے۔







