میرا تعلق ڈاکٹر مغیث الدین شیخ صاحب سے استاد اور شاگرد کا تھا، مگر وہ رشتہ آگے بڑھ کر ایک ادبی خاندان جیسا بن گیا۔ انہی کی محبت اور حوصلہ افزائی تھی کہ مجھے الطاف حسن قریشی صاحب کے حلقے میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ ان کی محفلیں ہمیشہ کتاب، تاریخ اور قوم کی فکر سے بھری ہوتی تھیں۔ وہ ہمیں بتاتے کہ صحافت صرف خبر پہنچانا نہیں، قوم کی سمت متعین کرنا ہے۔
میری ان سے آخری ملاقات پانچ اے ذیلدار پارک، اچھرہ لاہور میں ہوئی۔ اس دن الطاف حسن قریشی صاحب کی لکھی ہوئی شہرہ آفاق کتاب "پیارے مولانا" کی تقریب رونمائی تھی۔ یہ کتاب سید ابوالاعلی مودودی کی شخصیت، فکر اور خدمات پر لکھی گئی تھی۔ اس تقریب کی رونق ہی الگ تھی۔ حافظ نعیم الرحمن، خواجہ سعد رفیق، مجیب الرحمن شامی، وقاص انجم جعفری اور سلیم منصور خالد جیسے اکابرینِ صحافت و سیاست نے خطاب کیا۔ ہر مقرر نے الطاف حسن قریشی صاحب کے علمی مزاج، ادارتی وژن اور اردو صحافت کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ میں اس وقت ایک طرف کھڑا ان کی باتیں سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہی لوگ تو میرے لیے اصل یونیورسٹی تھے۔ اس پوسٹ سے منسلکہ تصویر اسی تقریب کی ہے جس میں مجھے ان سے کچھ سرگوشیوں کا موقع مل گیا تھا۔
جناب الطاف حسن قریشی اردو ڈائجسٹ کے چیف ایڈیٹر تھے اور کئی دہائیوں تک انہوں نے اس ادارے کو اسی وقار اور علمی معیار کے ساتھ چلایا۔ ان کے زیرِ ادارت اردو ڈائجسٹ نے سنجیدہ صحافت، قومی نظریات اور ادبی اقدار کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کا انداز ہمیشہ متوازن، غیر متنازعہ اور تعمیری رہا۔ صحافتی برادری انہیں اردو صحافت کی سب سے معتبر اوربااثر شخصیات میں شمار کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اردو ڈائجسٹ کے بانی الطاف حسن قریشی کون تھے؟
الطاف حسن قریشی صاحب کی شخصیت میں انکساری، دیانت اور قومی فکر کا حسین امتزاج تھا۔ وہ نوجوانوں کو ہمیشہ کہتے کہ "قلم کی حرمت کو سمجھو، یہ قلم ہی قوموں کی تقدیر بدلتا ہے"۔
آج ان کی وفات سے اردو صحافت ایک عظیم ادارتی شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی APNS کے اطہر جمیل، عرفان اطہر قاضی، فیصل زاہد ملک نے بھی ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال صحافتی اور ادبی دنیا کے لیے ایسا نقصان ہے جسے پورا کرنا ممکن نہیں۔ ان کی نمازِ جنازہ اتوار 17 مئی کو نمازِ ظہر کے بعد جامعہ اشرفیہ، لاہور میں ادا کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ الطاف حسن قریشی صاحب کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔ ان کا ادارہ اور تحریریں ہمیشہ ان کی یاد کو زندہ رکھیں گی۔
تحریر: محمد فاروق بھٹی







