میں نے دریا کے اوپر لٹکتی ڈولیوں میں جان ہتھیلی پر رکھ کر سفر کرتے لوگوں کو دیکھتے ہوئے اور پھر انہی لوگوں کی زبان پر قیدی نمبر 804 کے قصیدے سنتے ہوئے بار بار یہی جملہ ذہن میں گونجتا رہا اللہ کی قسم، آپ لوگ غلام ہیں ۔
سوات پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں کے پہاڑ، جھیلیں، دریا اور سبزہ دیکھنے آتے ہیں۔
لیکن اگر خوبصورتی سے نظریں ہٹا کر حقیقت دیکھی جائے تو ایک تلخ سوال پیدا ہو جاتا ہے، آخر خیبر پختونخوا میں مسلسل تیرہ برس سے حکومت کرنے والی جماعت نے اس صوبے کو دیا کیا ہے؟
مینگورہ سے کالام تک کا راستہ اس سوال کا سب سے بڑا جواب ہے۔ مینگورہ سے مدین تک کا سفر تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح طے ہو جاتا ہے، لیکن مدین سے آگے بحرین اور پھر کالام اور اس سے آگے تک کا سفر دراصل صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سڑکیں ملبےکا ڈھیر ہیں، پل تباہ شدہ اور مقامی لوگ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دریا کو ڈولیوں کے ذریعے پار کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ 21ویں صدی کا پاکستان ہے، جہاں عوام کو بنیادی سہولیات کی بجائے اپنی جان بچانے کے جتن کرنا پڑ رہے ہیں۔
سیلاب کو گزرے چار سال ہو چکے ہیں، مگر تباہی کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، ٹوٹے پل، ملبے کے ڈھیر اور ایسے راستے جو کسی سیاحتی مقام کے بجائے کسی آفت زدہ علاقے کا منظر پیش کرتے ہیں۔
بعض مقامات پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سیلاب چند ہفتے پہلے آیا ہو، حالانکہ ایک پوری سیاسی مدت گزر چکی ہے۔ مزید حیرت اس وقت ہوتی ہے جب یہی راستے صوبے کی سیاحت کی شہ رگ سمجھے جاتے ہیں۔
تحریک انصاف کے کچھ حامی یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ پنجاب حکومت نے تو صرف سڑکیں ہی بنائی ہیں، اس میں کیا بڑی بات ہے؟
یہ جملہ ان لوگوں کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو سڑک کو محض تارکول اور بجری کا ڈھیر سمجھتے ہیں۔ میں ان دوستوں سے صرف اتنا کہوں گا کہ ذرا ایک دفعہ سوات اور کالام کی ان ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر سفر کر کے تو دیکھیں۔
جب آپ کو ایک گھنٹے کا سفر چار گھنٹے میں طے کرنا پڑے، جب آپ کی گاڑی کا سسپنشن جواب دے جائے اور آپ کا قیمتی وقت دشوار گزار راستوں میں ضائع ہو، تب آپ کو احساس ہوگا کہ سڑک ایک نعمت نہیں، بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
سڑک صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں ہوتی، یہ معیشت کی شہ رگ ہوتی ہے۔ اگر سڑکیں ہوں گی تو سیاح وہاں سکون سے پہنچ سکیں گے، ٹرانسپورٹ کا نظام فعال ہوگا اور مقامی لوگوں کا کاروبار چلے گا۔
جب سیاح ہی نہیں پہنچ پائیں گے، تو ہوٹل والے کیا کمائیں گے؟ جب ٹوٹی سڑکوں کی وجہ سے ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کا سوچ کر ہی انسان ہمت ہار جائے، تو وہاں ترقی کا پہیہ کیسے گھومے گا؟ پورے خیبر پختونخوا کا انفراسٹرکچر آج تباہ حالی کی تصویر بنا ہوا ہے۔
پی ٹی آئی کے حامی یہ تو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سیاحت کو فروغ دیں گے، لیکن سوال یہ ہے کہ سیاح وہاں پہنچے گا کیسے؟ کیا سیاح ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر آئیں گے؟ یا وہ ان ٹوٹی پھوٹی، جان لیوا سڑکوں اور تباہ شدہ پلوں کو عبور کر کے اپنی گاڑیوں کے پرزے تڑوانے آئیں گے؟
صحت کا شعبہ بھی زبوں حالی کا شکار ہے، ٹی ایچ کیو ہسپتالوں میں تو سہولیات نا ہونے کے برابر ہے، پورے سوات میں صرف ایک ہی سرکاری ہسپتال سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال ہے جہاں اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ مریض کو میلوں دور پشاور منتقل کریں۔
پھر مریض کو پشاور منتقل کرتے ہی یہ سننے کو ملتا ہے کہ اسے لاہور لے جائیں، چاہے اتنی دیر میں ہارٹ اٹیک کا مریض خالق حقیقی سے جا ملے ۔
حقیقت یہ ہے کہ سڑکوں کی تعمیر، ہسپتالوں اور اسکولوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے بنیادی ڈھانچے کو جنم دیتی ہے جو کسی بھی خطے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔
سوات کے عوام نے مجھے خود بتایا کہ وہ سڑکوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے کتنی مشکلات کا شکار ہیں۔ وہاں کی زمین زرخیز ہے، وادیاں خوبصورت ہیں، لیکن سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ان کی پیداوار منڈیوں تک نہیں پہنچ پاتی اور سیاحتی پوائنٹس ویران پڑے ہیں۔
جو لوگ سڑکوں کی تعمیر کو حقارت سے دیکھتے ہیں، انہیں شاید یہ اندازہ نہیں کہ سڑکوں کا نہ ہونا دراصل کسی بھی خطے کو ترقی سے محروم رکھنے اور اسے پسماندگی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔
جب ایک صوبہ اپنی عوام کو صاف ستھری سڑکیں بھی فراہم نہیں کر سکتا، تو پھر باقی ترقی کا دعویٰ صرف ایک کھوکھلا نعرہ ہی تو ہے۔
سڑکیں بنانا کوئی سیاسی احسان نہیں، بلکہ یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے جان چھڑوا نے کا مطلب ہے کہ آپ اپنی عوام کو ترقی کے ہر موقع سے محروم کر رہے ہیں۔
ہر انتخاب میں سیاحت کے فروغ کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ ہر جلسے میں خیبر پختونخوا کو ماڈل صوبہ قرار دیا جاتا ہے۔ ہر تقریر میں بتایا جاتا ہے کہ دنیا بھر کے سیاح یہاں آئیں گے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا تو دور کی بات، پاکستان کا ایک عام شہری بھی اگر ایک مرتبہ کالام کا سفر کر لے تو دوبارہ آنے سے پہلے دس بار سوچتا ہے۔
وجہ قدرتی حسن کی کمی نہیں۔ وجہ حکومتی نااہلی ہے۔ لیکن اس تباہی کے مرکز میں سب سے زیادہ افسوسناک کردار صوبائی حکمرانوں کا ہے۔
موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور ہوں یا جیسے دیگر ذمہ داران، ان کی ترجیحات دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔
کیا ان کی ذمہ داری صرف اسلام آباد اور اڈیالہ جیل کے چکر لگانا ہے؟ کیا ان کا کام صرف عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے بازی کرنا رہ گیا ہے؟ ایک وزیر آتا ہے، دوسرا جاتا ہے، لیکن سوات کے ان کھنڈرات کی طرف کسی کی نظر نہیں جاتی۔
صوبے کے عوام کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، لیکن حکومتی وزراء کی پوری توانائیاں صرف ایک "قیدی نمبر" کو رہا کروانے پر صرف ہو رہی ہیں۔
کیا خیبر پختونخوا کی عوام ان کے لیے صرف ایک ووٹ بینک ہے جو سڑکوں اور بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر بھی ان کے نعرے لگاتی رہے؟
کالام سے آگے کمراٹ، شاہی باغ، دیسان میڈوز اور دیگر سیاحتی مقامات کی طرف جانے والے راستے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ علاقے ریاست کے نقشے میں موجود ہی نہیں۔
ایک گھنٹے کا سفر تین سے چار گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے۔ کہیں پتھر ہیں، کہیں گڑھے ہیں، کہیں سڑک ہی غائب ہے۔ بارش ہو جائے تو صورتحال مزید خوفناک ہو جاتی ہے۔
لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ سڑکیں کیوں خراب ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوام اس پر خاموش کیوں ہیں؟
دنیا بھر میں جب سڑکیں ٹوٹتی ہیں تو لوگ اپنے نمائندوں سے جواب مانگتے ہیں۔ جب پل گر جاتے ہیں تو حکومتوں سے سوال کیا جاتا ہے۔ جب بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں تو احتجاج ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں عجیب صورتحال ہے۔
سڑک ٹوٹی ہوئی ہو گی، مگر نعرہ زندہ باد کا لگے گا۔ پل بہہ گیا ہو گا، مگر تعریفیں جاری رہیں گی۔ بجلی غائب ہو گی، مگر عقیدت برقرار رہے گی اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ حالات بدلتے کیوں نہیں۔
کالام اور گردونواح میں ایک اور افسوسناک منظر بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ ہوٹل جو دریا کے کنارے غیر محفوظ مقامات پر تعمیر کیے گئے تھے اور سیلاب میں بہہ گئے تھے، ان میں سے بہت سے دوبارہ انہی مقامات پر کھڑے ہو چکے ہیں۔
نہ حکومت نے کوئی سبق سیکھا اور نہ کاروباری طبقے نے۔ اگر کل دوبارہ سیلاب آتا ہے تو نقصان کس کا ہو گا؟ جانیں کس کی جائیں گی؟ معیشت کس کی تباہ ہو گی؟
مگر منصوبہ بندی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شاید اگلے سانحے کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مسئلہ صرف انفراسٹرکچر کا نہیں بلکہ حکمرانی کا ہے اور حکمرانی کا مسئلہ صرف حکمرانوں سے پیدا نہیں ہوتا، عوام بھی اس میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
جب ووٹر کارکردگی کے بجائے جذبات پر ووٹ دے، جب سوال کرنے والا غدار اور تعریف کرنے والا وفادار سمجھا جائے، جب سیاسی جماعتیں عوامی خدمت کے بجائے شخصیت پرستی کے ذریعے ووٹ حاصل کریں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ خوبصورت وادیاں تو رہ جاتی ہیں مگر ان تک پہنچنے والے راستے تباہ ہو جاتے ہیں۔
شاید اسی لیے سوات آج ایک عجیب تضاد کی تصویر بن چکا ہے۔ قدرت نے اسے حسن دیا۔ عوام نے اسے محبت دی۔ لیکن سیاست نے اسے نظر انداز کر دیا۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو سب سے زیادہ شکایت ہونی چاہیے، وہی سب سے زیادہ مطمئن نظر آتے ہیں۔ اسی لیے یہ جملہ تلخ ہونے کے باوجود سچ معلوم ہوتا ہے اللہ کی قسم، آپ لوگ غلام ہیں۔







