مگر اگر کوئی شخص سعودی عرب کی اصل روح، اس کی قومی شناخت اور تاریخی بنیادوں کو محسوس کرنا چاہے تو اسے ریاض کے شمال مغرب میں واقع الدرعیہ کا رخ کرنا چاہیے، جہاں موجود الطریف صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ سعودی ریاست کی پیدائش کی سرزمین ہے۔


جیسے ہی میں الدرعیہ پہنچا، شہر کی مصروف زندگی پیچھے رہ گئی اور محسوس ہوا جیسے وقت کی سوئیاں الٹی سمت میں چلنے لگی ہوں۔ مٹی سے بنی بلند و بالا دیواریں، تنگ گلیاں، قدیم دروازے، تاریخی قلعے اور روایتی نجدی طرزِ تعمیر ایک ایسی دنیا کا دروازہ کھول دیتے ہیں جہاں ہر اینٹ ماضی کی کوئی داستان سناتی ہے۔


یہی وہ مقام ہے جہاں 1744ء میں پہلی سعودی ریاست کی بنیاد رکھی گئی۔ امام محمد بن سعود اور شیخ محمد بن عبد الوہاب کے تاریخی اتحاد نے اسی سرزمین سے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جس نے بعد میں موجودہ مملکت سعودی عرب کی صورت اختیار کی۔ یہی وجہ ہے کہ الدرعیہ کو سعودی قومی شناخت کی علامت اور تاریخی مرکز سمجھا جاتا ہے۔


الطریف کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا ہے، اور یہاں پہنچ کر اس فیصلے کی اہمیت بخوبی سمجھ میں آتی ہے۔ وسیع و عریض محلات، تاریخی مساجد، قدیم رہائشی مکانات، فصیلیں اور بحال شدہ عمارتیں نہ صرف ماضی کی شان و شوکت کا پتہ دیتی ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ سعودی عرب نے اپنی تاریخ کو محفوظ رکھنے کے لیے کتنی محنت کی ہے۔


یہاں کی سب سے نمایاں خصوصیت روایتی نجدی طرزِ تعمیر ہے۔ مٹی، پتھر، کھجور کی لکڑی اور قدرتی وسائل سے تعمیر کیے گئے مکانات آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں۔ موٹی دیواریں، خوبصورت نقش و نگار، ہوا کی آمدورفت کے لیے مخصوص کھڑکیاں اور گرمی سے بچاؤ کا روایتی نظام اس دور کی تعمیراتی ذہانت کی گواہی دیتے ہیں۔


الطریف کی گلیوں میں چلتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ خود آپ کے ساتھ چل رہی ہو۔ ہر گلی، ہر دروازہ اور ہر دیوار کسی نہ کسی واقعے کی امین ہے۔ یہاں موجود عجائب گھر سعودی عرب کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تاریخ کو انتہائی خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔ قدیم ہتھیار، روایتی لباس، تاریخی دستاویزات، گھریلو استعمال کی اشیا اور مقامی دستکاریاں ماضی کی زندگی کو آنکھوں کے سامنے زندہ کر دیتی ہیں۔


اس تاریخی ماحول میں عرب مہمان نوازی کی خوشبو بھی ہر طرف محسوس ہوتی ہے۔ روایتی قہوہ، کھجوریں، مقامی ثقافت، مسکراتے ہوئے لوگ اور سعودی روایات ہر سیاح کو اپنائیت کا احساس دلاتی ہیں۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو کسی بھی تاریخی مقام کو صرف پتھروں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں رہنے دیتیں بلکہ اسے ایک زندہ تہذیب بنا دیتی ہیں۔


الطریف کے بالمقابل واقع بوجیری ٹیرس جدید سعودی عرب کی شاندار تصویر پیش کرتا ہے۔ عالمی معیار کے ریستوران، خوبصورت کیفے، کھلے بیٹھنے کے مقامات، خاندانی تفریح اور رات کے وقت روشنیوں میں نہایا ہوا الطریف ایسا منظر پیش کرتا ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا مشکل ہے۔ یہاں بیٹھ کر جب تاریخی الطریف پر پڑنے والی روشنیوں کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ماضی اور حال ایک دوسرے سے ہم کلام ہیں۔


دن کے وقت تاریخ اپنی عظمت دکھاتی ہے، جبکہ رات کے وقت یہی مقام روشنیوں کی بدولت ایک خواب ناک منظر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے سیاح، مقامی خاندان، نوجوان اور بچے اس ماحول سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب نے اپنی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید سیاحت کو بھی عالمی معیار پر استوار کیا ہے۔


الدرعیہ کا سفر صرف ایک سیاحتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی تجربہ ہے۔ یہاں آکر احساس ہوتا ہے کہ قومیں صرف بلند عمارتوں اور جدید منصوبوں سے عظیم نہیں بنتیں، بلکہ اپنی تاریخ، ثقافت اور ورثے کو محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں سے اپنا تعلق جوڑتی ہیں۔


انسان جتنی بھی ترقی کر لے، اس کا ماضی ہمیشہ اس کے ساتھ چلتا ہے۔ یہی ماضی اس کی شناخت، ثقافت اور مستقبل کی بنیاد بنتا ہے۔ الدرعیہ اسی حقیقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے، جہاں ہر اینٹ، ہر گلی اور ہر عمارت سعودی عرب کے تاریخی سفر کی گواہی دیتی ہے۔


اگر آپ ریاض آئیں تو فلک بوس عمارتوں اور جدید شاپنگ مالز کے ساتھ الدرعیہ اور الطریف کی سیر ضرور کریں، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں آپ کو معلوم ہوگا کہ جدید سعودی عرب کی بنیاد کن تاریخی اصولوں، روایات اور قربانیوں پر رکھی گئی تھی۔


الدرعیہ محض ایک تاریخی مقام نہیں، بلکہ یہ سعودی عرب کے ماضی کی عظمت، حال کی ترقی اور مستقبل کے وژن کا ایسا حسین امتزاج ہے جو ہر آنے والے کے دل و دماغ پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے۔

تحریر: کامران اشرف

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری  نہیں۔ ایڈیٹر