یہ کہتے ہوئے سات سمندر پار بیٹھا سوشل میڈیا صارف اگلی ویڈیو کا کنٹینٹ سوچنے بیٹھ گیا۔ اسے 13 گھنٹوں میں 8 لاکھ کے قریب ویوز مل گئے۔ بیرون ملک سوشل میڈیا مواد سے اچھی آمدن ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں بیٹھا غریب شہری اگر نکلے گا تو نتائج خود بھگتے گا کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اسے ورغلانے والا لندن جیسے محفوظ شہر میں بیٹھ کر خوب کمائی کر رہا ہے جبکہ اس کا اپنا چولہا اپنی ہی غفلت سے بند ہو سکتا ہے یا دیگر شہریوں کے چولہے متاثر ہوسکتے ہیں۔

یہ سب باتیں اتنے پیار اور احساس فکر کے ساتھ کہی جاتی ہیں کہ سننے والا ایک بار ضرور سوچتا ہے۔ اسی طرح چند صحافی اور سوشل میڈیا صارفین بھی ہیں جو جذباتی جملے پوسٹ کر رہے ہیں اور مسلسل یہ احساس دلا رہے ہیں کہ انہیں عمران خان کی بہت زیادہ فکر ہے لیکن دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ملک سے باہر ہیں۔ آپ کو سڑک پر لانا مقصود ہے چاہے نتائج کچھ بھی ہوں کیونکہ ان کا مواد دھیرے دھیرے کمزور پڑ چکا ہے۔ آپ نکلیں گے تو کچھ ہو نہ ہو ان کا کنٹینٹ ضرور چل پڑے گا۔

بطور میڈیا سٹوڈنٹ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک باقاعدہ طریقہ کار ہے جس میں آپ کے جذبات کو چھیڑا جاتا ہے۔ میڈیا لیٹریسی میں یہ تمام پہلو زیر بحث آتے ہیں اور میں بھی وقتاً فوقتاً اپمی تحریروں میں ذکر کرتا رہا ہوں۔ درست ہے کہ ایک قیدی کو بنیادی ضروریات تک رسائی اور علاج کی سہولت ملنی چاہیے لیکن اس ضمن میں ملک بند کرنا یا اپنے کنٹینٹ کے ذریعے انتشار پھیلانا چہ معنی دارد؟

سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی بیانیہ کی پشت پر معاشی مفادات، نفسیاتی محرکات اور سیاسی حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے۔ جب کوئی فرد سات سمندر پار بیٹھ کر یہ کہتا ہے کہ اگر فلاں رہنما کی دوسری آنکھ سلامت دیکھنی ہے تو پورا ملک بند کرنا ہوگا تو بظاہر یہ ایک جذباتی اپیل ہی معلوم ہوتی ہے لیکن دراصل یہ ایک منظم کمیونیکیشن سٹریٹیجی ہوتی ہے۔

مہذب معاشرے میں یہ بحث جائز ہے کہ زیر حراست فرد کو علاج، وکیل اور خاندان تک رسائی حاصل ہونی چاہیے لیکن اس مسئلے کو اجتماعی انتشار اور ملک گیر شٹ ڈاؤن سے جوڑ دینا ایک الگ نوعیت کی حکمت عملی ہے جسے سماجی علوم میں پہلے سے ہی سمجھایا جا چکا ہے۔

سیاسی ابلاغیات میں ایک اصول کے تحت باقاعدہ تھریٹ فریمنگ کی جاتی ہے جس میں آپ کے غصے، خوف اور ہمدردی کے جذبات کو استعمال کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی معاملہ فوری خطرے کی صورت میں پیش کیا جا سکے۔ عمران خان کی بینائی کے معاملے میں ملک بند کرنے کی حد تک جانے والے سوشل میڈیا صارفین یہی کچھ کرتے ہیں۔ ایک کنٹینٹ کری ایٹر نے تو بینائی کے معاملے پر مسلسل پانچ دس ویڈیوز داغ دیں۔ یہ بھی ایک سٹریٹیجی ہے جس میں مارل ارجنسی پیدا کر کے آپ کو بتایا جاتا ہے کہ اگر ابھی کوئی قدم نہ اٹھایا تو اخلاقی طور پر آپ ہی قصور وار ہوں گے۔

 خان کو اگر زندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔۔  جیسے جملے مسلسل دہرا کر آپ کی توجہ حاصل کی جاتی ہے کیونکہ جتنا اشتعال انگیز جملہ ہوگا اتنے زیادہ ویوز، شیئرز اور تبصرے ہوں گے۔ فیس بک، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کا الگورتھم انہی ویڈیوز کو آگے بڑھاتا ہے۔ چنانچہ بیرون ملک بیٹھا کنٹینٹ کری ایٹر جب کسی بحران کو شدت کے ساتھ پیش کرتا ہے تو اس کی ویڈیو لاکھوں افراد تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح اس کے مالی فوائد بھی اسی تناسب سے بڑھتے ہیں۔ 

میں کسی آئینی احتجاج کی مخالفت نہیں کر رہا۔ فقط یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب کوئی سوشل میڈیا صارف، کنٹینٹ کری ایٹر یا وی لاگر خود محفوظ ماحول میں بیٹھ کر عوام کو سڑکوں پر آنے کی تلقین کرتا ہے تو اس کے الفاظ اور ذاتی عمل میں خلاء نظر آتا ہے۔ یہ کام صحافی نہیں کر سکتا۔ صحافی اپنی صحافت کرتا ہے لیکن جو کنٹینٹ کری ایٹرز ایسا کرتے ہیں انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح کے ابلاغ کا تقاضا ہے کہ جو شخص عمل کی دعوت دے وہ خود بھی اس کے نتائج میں شریک ہو۔

یہاں اصل بحث یہ نہیں کہ کسی رہنما سے محبت یا اختلاف ہونا چاہیے یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی ابلاغ میں عوامی جذبات کو اس طرح استعمال کرنا اخلاقی طور پر درست ہے؟ کیا خود محفوظ مقام پر بیٹھ کر پورے ملک کے عوام کو یوں ورغلانا مناسب ہے؟ کیا صحافی کہلانے والے چند کنٹینٹ کری ایٹرز عوام کو سمجھانے اور باریکیاں بتانے کا کام نہیں کر سکتے؟ میرا بنیادی اختلاف انہی خودساختہ صحافیوں سے ہے جو صحافت کی آڑ میں پولیٹیکل اکٹیویسٹ بنے بیٹھے ہیں اور پھر جب انہیں قانونی طور پر گھیر لیا جاتا ہے تو یہ اپنی صحافت کا منجن بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ خدارا! صحافت کو بدنام کرنے سے تو گریز کریں۔ آپ کی صحافت ہم سب دیکھ رہے ہیں!

آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ یہ حق کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے لیکن اسی آئین میں عوامی نظم و نسق، معاشی سرگرمیوں اور دیگر شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی شامل ہے۔ مکمل شٹ ڈاؤن، ٹرانسپورٹ کی بندش یا کاروبار کی معطلی روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کو متاثر کرتی ہے تو کیا کسی فرد کی صحت کا مسئلہ خواہ وہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو پورے معاشرے کو معاشی تعطل میں ڈالنے کا جواز فراہم کرتا ہے؟ کچھ تو رحم کریں! 

تحریر: ادیب یوسفزئی

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی فیس بک وال سے لی گئی ہے، ادارے کا خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر