ایران نے حملوں کے جواب میں بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور بحری کارروائیوں کے ذریعے جوابی ردعمل دیا۔ خلیج میں امریکی فوجی اڈے ہائی الرٹ پر چلے گئے، جب کہ اسرائیل نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر دیا۔

چند ہی دنوں میں آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے حساس سمندری راستہ بن گیا، کیونکہ عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ جہاز رانی متاثر ہوئی، انشورنس اخراجات بڑھے اور عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔

اسرائیل برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام اور اس کا میزائل نیٹ ورک اس کی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

اسرائیلی قیادت کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود نہ کیا گیا تو پورا خطہ ایک نئی اسلحہ کی دوڑ میں داخل ہو سکتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت ابتدائی حملوں میں جوہری تنصیبات، میزائل مراکز، فضائی دفاع اور عسکری ڈھانچے کو ہدف بنایا گیا۔

ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ صرف دفاع نہیں کرے گا بلکہ حملوں کی قیمت بھی وصول کرے گا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب محدود فوجی کارروائی ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔

واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ اس کا بنیادی مقصد ایران پر قبضہ کرنا یا حکومت تبدیل کرنا نہیں بلکہ خطے میں امریکی مفادات، عالمی توانائی کی سپلائی اور آبنائے ہرمز کو محفوظ رکھنا ہے۔

اسی دوران امریکا نے خلیج میں اضافی بحری بیڑے، میزائل شکن نظام اور جنگی طیارے تعینات کیے تاکہ ایران کی کسی بڑی کارروائی کا فوری جواب دیا جا سکے۔

جنگ کے دوران ایران کی متعدد فوجی تنصیبات، صنعتی مراکز، توانائی کے ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک متاثر ہوئے۔ اگرچہ تہران نے ابھی تک مجموعی نقصان کا سرکاری تخمینہ جاری نہیں کیا، تاہم بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ نے پہلے سے پابندیوں کا شکار ایرانی معیشت پر مزید دباؤ ڈالا۔

تیل کی برآمدات، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی ایران کے لیے سب سے بڑے چیلنج بن گئے۔ چند ہفتوں کی شدید کشیدگی کے بعد پس پردہ سفارتی رابطے تیز ہوئے۔

قطر اور پاکستان سمیت کئی علاقائی ممالک نے دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کیا۔ 17 جون کو ایک 14 نکاتی عبوری فریم ورک سامنے آیا جس میں 60 روزہ مذاکراتی مدت، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مستقل معاہدے کی کوششوں پر اتفاق کیا گیا، تاہم اس معاہدے پر عمل درآمد اب بھی کئی شرائط سے مشروط ہے اور حالیہ دنوں میں جنگ بندی کو متعدد بار چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

اسی فریم ورک کی سب سے زیادہ زیرِ بحث شق ایک 300 ارب ڈالر کے نجی سرمایہ کاری فنڈ کی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق یہ امریکی حکومت کا امدادی پیکیج یا جنگی ہرجانہ نہیں بلکہ ایک ایسا نجی سرمایہ کاری فنڈ ہے جس میں امریکا، خلیجی ممالک، ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں کی نجی کمپنیاں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔

اس مجوزہ فنڈ کے نصف سے زیادہ سرمائے کے ابتدائی وعدے پہلے ہی کیے جا چکے ہیں، لیکن یہ فنڈ صرف اس صورت میں فعال ہوگا جب امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدہ طے پا جائے۔

اگر امریکا ایک ڈالر بھی براہِ راست ادا نہیں کرے گا، تو کیا خلیجی ریاستیں ایران کی معاشی بحالی میں سرمایہ لگائیں گی؟ کیا نجی سرمایہ کار ایک ایسے ملک میں اربوں ڈالر لگانے پر آمادہ ہوں گے جو دہائیوں سے پابندیوں کی زد میں ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا یہ معاہدہ واقعی جنگ کا خاتمہ کرے گا یا صرف ایک عارضی وقفہ ثابت ہوگا؟ انہی سوالات کے جواب اس معاہدے کے اگلے مرحلے کا تعین کریں گے۔

جنگ بندی کے اعلان کے بعد اگرچہ میزائل خاموش ہونا شروع ہوئے، لیکن ایک نئی جنگ شروع ہو گئی اور وہ تھی معیشت، سرمایہ کاری اور سفارت کاری کی جنگ۔ ایران، امریکا اور اسرائیل تینوں نے عسکری محاذ پر بھاری قیمت ادا کی، مگر سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اس جنگ کی مالی قیمت کون ادا کرے گا؟

ایران پہلے ہی کئی برس سے امریکی اور مغربی پابندیوں کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کا شکار تھا۔ افراطِ زر، کرنسی کی کمزوری، محدود غیر ملکی سرمایہ کاری اور تیل کی برآمدات پر پابندیوں نے معیشت کو کمزور کر رکھا تھا۔ جنگ نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا۔

عبوری معاہدے کے بعد ایران کو تیل برآمد کرنے کے لیے محدود رعایتیں دینے اور بیرون ملک موجود منجمد اثاثوں تک جزوی رسائی دینے پر اتفاق ہوا، جس کے بعد ایرانی مرکزی بینک نے اعلان کیا کہ ابتدائی طور پر 2 ارب ڈالر صنعتی شعبے اور ضروری درآمدات کے لیے مختص کیے جائیں گے تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔

اگرچہ ایران نے جنگ سے ہونے والے مجموعی نقصان کا سرکاری تخمینہ جاری نہیں کیا، لیکن مذاکرات کے دوران تہران نے ابتدائی طور پر امریکہ سے 400 ارب ڈالر جنگی ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔

واشنگٹن نے اس مطالبے کو مسترد کیا، جس کے بعد براہِ راست ہرجانے کے بجائے ایک متبادل معاشی فریم ورک پر بات آگے بڑھی۔

300 ارب ڈالرز امریکی حکومت کی امداد نہیں اور نہ ہی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے۔ یہ ایک نجی تعمیرِ نو منصوبہ ہے، جس میں امریکا، خلیجی ممالک، ایشیا، جنوبی امریکا اور افریقہ کی نجی کمپنیاں سرمایہ کاری کریں گی۔

اس سرمایہ کاری کا مقصد ایران کے توانائی، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، صنعت اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو بحال کرنا ہے۔ اس فنڈ کا نصف سے زیادہ سرمایہ ابتدائی طور پر وعدوں کی صورت میں سامنے آ چکا ہے، لیکن فنڈ صرف اسی صورت فعال ہوگا جب 60 روزہ مذاکرات کامیاب ہو کر حتمی معاہدہ طے پا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو یہ فنڈ بھی عملی شکل اختیار نہیں کرے گا۔

300 ارب ڈالر کے فنڈ سے الگ ایک اور بڑا معاملہ ایران کے بیرون ملک منجمد اثاثوں کا ہے۔ ایران کے 100 سے 120 ارب ڈالر کے اثاثے کئی ممالک میں منجمد ہیں۔ ان میں تقریباً 20 ارب ڈالر چین، 7 ارب ڈالر جنوبی کوریا، 6 ارب ڈالر عراق، 1.5 ارب ڈالر جاپان اور دیگر ممالک میں موجود رقوم شامل رہی ہیں۔

یہ اثاثے بنیادی طور پر تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ہیں جو پابندیوں کی وجہ سے استعمال نہیں ہو سکیں۔ عبوری معاہدے میں ان اثاثوں تک رسائی کا ذکر ضرور ہے، لیکن امریکی مؤقف یہ ہے کہ ان کی بحالی مرحلہ وار ہوگی اور ایران کی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط رہے گی۔

امریکا کی سرزمین اس جنگ سے محفوظ رہی، لیکن جنگ کی مالی قیمت کم نہیں تھی۔ خلیج میں بحری بیڑوں کی تعیناتی، فضائی دفاع، میزائل شکن نظام، اضافی فوجی نفری اور مسلسل آپریشنز پر اربوں ڈالر خرچ ہوئے۔

اس کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کو سیاسی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا، کیونکہ کانگریس اور خود ریپبلکن حلقوں میں بھی معاہدے کی شرائط پر سوالات اٹھائے گئے۔

اسرائیل کا بنیادی مقصد ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیت کو محدود کرنا تھا، لیکن مسلسل میزائل حملوں، فضائی دفاعی نظام کے استعمال اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ نے اسرائیل کو بھی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا۔

اگرچہ اسرائیلی حکومت اسے اپنی سلامتی کے لیے ضروری اقدام قرار دیتی ہے، لیکن جنگ نے خطے میں طویل المدتی غیر یقینی صورتحال بھی پیدا کی ہے۔ اس پوری پیش رفت میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔

پاکستان نے صرف جنگ بندی کے لیے سفارتی رابطوں میں کردار ادا نہیں کیا بلکہ 300 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری فریم ورک پر ہونے والی بات چیت میں بھی سہولت کار کے طور پر حصہ لیا۔ بعد ازاں قطر نے بھی مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ دوحہ میں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے الگ الگ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع تھا، کیونکہ اس نے ایک ایسے تنازع میں رابطے کا پل بننے کی کوشش کی جہاں براہِ راست بات چیت تقریباً ناممکن سمجھی جا رہی تھی۔ کیا ایران واقعی 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر سکے گا؟

اس کا جواب صرف جنگ بندی میں نہیں بلکہ ان 60 دنوں کے مذاکرات میں چھپا ہے، جن میں پابندیوں، منجمد اثاثوں، جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور سرمایہ کاری کے طریقہ کار پر حتمی فیصلے ہونے ہیں۔ اگر کسی ایک نکتے پر بھی اتفاق نہ ہوا تو پورا معاشی منصوبہ رک سکتا ہے، اور اگر معاہدہ کامیاب رہا تو یہ ایران کی معیشت میں گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی بیرونی سرمایہ کاری ثابت ہو سکتی ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر