یہ وہ نام نہاد عالمی امن کا ٹھیکیدار ہے جو برسوں سے انسانی حقوق اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں کو اخلاقیات کا درس دیتا رہا۔ آج اس کے اپنے گھر کی دیواریں اس قدر بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ وہاں کے باشندے اس   سرزمین سے بھاگنے کے لیے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ 

بڑا آیا یہ  خطے کا بدمعاش  بننے والاجس سے اپنے ملک کے داخلی بحران سنبھالے نہیں جاتے، جس کی معیشت قرضوں تلے دبی ہے اور جس کا سماجی  نظام  نفرت کی آگ میں جل رہا ہے۔

مگر فرعونیت کا عالم یہ ہے کہ اب بھی زبان پر صرف جنگوں کی دھمکیاں اور دوسرے ملکوں کی تباہی کا راگ الاپا جاتا ہے۔

 دوسروں کو آگ اور خون میں دھکیلنے والا یہ ملک آج خود اپنے ہی لوگوں کے لیے ایک جہنم بنتا جا رہا ہے۔

گزشتہ ایک سال میں آئرش شہریت کی درخواستوں میں  63 فیصد  کا شرمناک اضافہ اور 2025 میں اس تعداد کا 18,910 تک جا پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی عوام اب اپنے ہی پرچم تلے سانس لینے کو موت کا پیغام سمجھنے لگے ہیں۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ کے جابرانہ صدارتی احکامات، ٹیرف کے نام پر معاشی دہشت گردی اور مخصوص طبقات کو دیوار سے لگانے کی پالیسیوں نے اس  آزاد ملک  کو ایک ایسی جیل میں بدل دیا ہے جہاں انسانی اقدار کی کوئی وقعت نہیں۔

یہ عالمی سطح پر کسی مذاق سے کم نہیں کہ جو ریاست دوسروں کو سیاسی پناہ دینے کے دعوے کرتی تھی، آج اسی کے شہری برطانیہ اور آئرلینڈ جیسے ممالک میں  پناہ گزین  بننے پر مجبور ہیں۔

 برطانیہ کی جانب ہجرت میں 42 فیصد کا اضافہ اس حقیقت کو ننگا کر دیتا ہے کہ اب امریکی پاسپورٹ فخر کی علامت نہیں بلکہ ایک بوجھ بن چکا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جب کسی ملک کی سیاست انسانی بحران کی شکل اختیار کر جائے اور وہاں کی ریاست اپنے ہی شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنانا شروع کر دے، تو اس کا انجام رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

 یہ خطے کا بدمعاش اندر سے اس قدر کھوکھلا ہو چکا ہے کہ اب اسے اپنی بقا کے لیے بیرونی دشمنوں کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کا اپنا ظلم ہی اسے لے ڈوبے گا۔

 اپریل 2025 تک ہزاروں امریکیوں کا مستقل ہجرت کر جانا اس نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے منہ پر وہ طمانچہ ہے جس کی گونج پوری دنیا سن رہی ہے۔

طاقت کا وہ مینار، جو انصاف اور مساوات کے بجائے دھونس اور تکبر پر کھڑا ہو، وہ تادیر قائم نہیں رہ سکتا۔ امریکیوں کا یہ  پلان بی  دراصل اس ریاستی بیانیے کی مکمل شکست ہے جس نے دہائیوں تک دنیا کو بیوقوف بنائے رکھا۔

جب کسی ملک کی قیادت اپنی تمام تر توانائی دوسرے ممالک کی سرحدوں میں مداخلت کرنے اور جنگی جنون پھیلانے پر صرف کر دے، جب کہ اس کا اپنا ملک بے روزگاری، گن وائلنس اور سماجی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو، تو ایسی ریاست کا زوال پزیر ہونا ظاہری بات ہے۔

 بڑا آیا یہ عالمی امن کا محافظ، جس کے اپنے شہر عدم تحفظ کی تصویر بنے ہوئے ہیں، مگر اسے فکر ہے تو بس اس بات کی کہ کس طرح دنیا کے دوسرے خطوں میں اپنی بدمعاشی قائم رکھنی ہے۔

 یہ کھلا تضاد اب امریکی عوام کی برداشت سے باہر ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی شناخت اور مستقبل کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے کسی بھی دوسرے محفوظ ملک کا رخ کرنے کو اپنی خوش قسمتی سمجھ رہے ہیں۔

امریکا کے لیے یہ ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اس کی ساکھ کا جنازہ ہے جو اس کے اپنے ہی شہریوں نے نکال دیا ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر