ملتان کے رشید آباد قبرستان میں ایک باپ اپنے جوان بیٹے دانش کی میت اٹھائے کھڑا تھا۔ نہ کفن کا کپڑا، نہ غسل کا انتظام، نہ تدفین کے اخراجات۔ مجبوری اتنی شدید تھی کہ اس نے بیٹے کے جسم کو محض ایک معمولی چادر میں لپیٹا اور قبر کی طرف بڑھا۔

 پولیس کو اطلاع ملی تو لوہاری گیٹ تھانے کی نفری موقع پر پہنچی اور والد نے روتے ہوئے بتایا کہ غربت نے انہیں اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ اپنے بیٹے کو عزت سے دفنانے کے لیے بھی ان کے پاس پیسے نہیں۔

یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، یہ اس پنجاب کی تصویر ہے جہاں لاکھوں گھرانے روزمرہ کی بنیادی ضروریات کے لیے بھی ترستے ہیں۔

اب اسی پنجاب کی اسمبلی کا منظر دیکھیے۔ چند ہفتے قبل ایوان میں سوالات کا وقفہ جاری تھا کہ معاملہ وزیرِاعلیٰ کے ذاتی استعمال کے لیے خریدے گئے ایک طیارے تک جا پہنچا، مالیت ساڑھے گیارہ ارب روپے۔ اپوزیشن رکن نے سوال اٹھایا تو حکومتی بنچوں سے جواب آیا کہ اگر سندھ کی حکومت اپنا جہاز رکھ سکتی ہے تو پنجاب کیوں نہیں۔

 اپوزیشن نے احتجاجاً کاغذی جہاز بنا کر ایوان میں لہرائے، مگر بات ہنسی مذاق میں دب گئی۔ اسپیکر تک نے تبصرہ کیا کہ اگر انہیں جواب دینا ہوتا تو وہ اس خریداری کو درست اقدام ہی قرار دیتے۔

ایک جملہ بہت معروف ہے ’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘۔ اسی جملے کے مصداق سینئر وزیر مریم اورنگ زیب کا جواب عوام میں غم و غصے کو بڑھا رہا ہے، سوال ہوا کہ جہاز کیوں خریدا؟ تو جواب دیا خریدا ہے بھائی۔ اپوزیشن کو صرف جواب ہی نہیں دیا بلکہ گزشتہ حکومت کے وزیراعظم ہاؤس کے پچاس روپے والے ’ہیلی کاپٹر‘ کا ذکر بھی کیا۔

سوچیے، ساڑھے گیارہ ارب روپے، یہ رقم اگر تقسیم کی جائے تو رشید آباد جیسے ہزاروں قبرستانوں میں دفن ہونے والے ہر غریب کے کفن، ہر بیمار کے علاج اور ہر بھوکے بچے کے ایک وقت کے کھانے کے لیے کافی ہو۔

 ایک طرف وہ باپ ہے جس کے پاس بیٹے کی لاش کو وقار سے رخصت کرنے کے لیے چند ہزار روپے نہیں، دوسری طرف فضا میں اڑنے والی وہ پرتعیش سواری ہے جس کی قیمت پر بحث کرنا بھی اسمبلی میں ’غیر سنجیدگی‘ سمجھا جاتا ہے۔

یہ صرف ایک جہاز اور ایک چادر کا فرق نہیں، یہ اس ریاست کی ترجیحات کا آئینہ ہے جہاں اقتدار کی آسائش اور عوام کی بقا کے درمیان فاصلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت کے پاس وسائل ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ وہ وسائل کس کی فلاح پر خرچ ہو رہے ہیں۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر