یہ 23 اکتوبر 2020 کا کیس ہے۔ انگلینڈ میں جارج نائٹس نامی باڈی بلڈر ڈرگز کے کاروبار سے منسلک تھا۔ اس نے کوکین کی ایک ڈیل کے لیے سٹیفن چیپ مین کو اپنے گھر بلایا۔

 جب ڈیل ہونے والی تھی تو جارج نائٹس پیسے لینے کے لیے اوپر کی منزل پر گیا۔ واپسی پر وہ اپنے ساتھ ایک چاقو لے کر آیا۔ ان کے مابین ڈیل کے دوران تلخ کلامی ہوئی تو سٹیفن چیپ مین نے چاقو دیکھ لیا۔ ہاتھاپائی کے دوران سٹیفن چیپ مین چاقو کے وار سے مارے گئے۔

جب یہ کیس چلا تو پہلے جارج نائٹس نے بچنے کی بہت کوشش کی تاہم پکڑا گیا۔ پولیس کو شواہد سے معلوم ہوا کہ جارج نے پہلے سٹیفن چیپ مین کو قتل کیا اور پھر اس کی لاش تیزاب میں گھلا کر غائب کر دی۔ پولیس نے جب جارج کے گھر کی تلاشی لی تو وہاں سے سلفیورک ایسڈ کی چار خالی بوتلیں ملیں اور قریب ہی پہیوں والے کوڑے دان میں لاش کے آثار پائے گئے۔

کیس کے دوران عدالت میں جارج نائٹس نے بیان دیا  میں نے بریکنگ بیڈ سیریز دیکھ رکھی تھی اور اپنی دیوانگی میں میں نے سوچا کہ لاش سے چھٹکارا پانے کا یہی طریقہ ہے۔ میں نے اپنے کمپیوٹر پر ڈھونڈا کہ وہ کون سا تیزاب اور سلفیورک ایسڈ تھا۔  پولیس کو یہ بھی معلوم ہوا کہ نائٹس نے بریکنگ بیڈ کے مرکزی کردار والٹر وائٹ کا نام اپنے آن لائن اکاؤنٹ کے پاس ورڈ کے طور پر بھی استعمال کیا تھا اور وہ اپنے گھر میں امفیٹامین بنانے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔ اسے 23 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

بتانا چاہتا ہوں کہ کس طرح میڈیا(سینما، او ٹی ٹی، ٹی وی، موبائل وغیرہ) کے ذریعے ایک شخص نے لاش گھلانے کا عمل سیکھا۔ بریکنگ بیڈ نے جارج کو قاتل نہیں بنایا لیکن اس سیریز نے اسے لاش گھلانے کا باقاعدہ طریقہ کار سکھا دیا تھا۔

یہ کاپی کیٹ کرائم ہے۔ میڈیا اور جرائم کی دنیا میں یہ ٹرم بہت استعمال ہوتی ہے یعنی ایک ایسا مجرمانہ فعل جو کسی پہلے سے رپورٹ ہونے والے جرم کی نقل پر مبنی ہو اور یہ خاص طور پر اس وقت سامنے آتا ہے جب میڈیا اس جرم کو وسیع پیمانے پر نشر کرے۔

اس حوالے سے آپ جیک دی ریپر(Jack the Ripper) کی سٹوری پڑھ سکتے ہیں۔ کاپی کیٹ کرائم کی اصطلاح یہیں سے سامنے آئی تھی۔ اس سیریل کلر پر الگ پوری داستان لکھی جا سکتی ہے لیکن فی الحال آپ کو فقط ایک نکتہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں، سو یہ کہانی پھر کبھی۔

ان دنوں پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر انمول پنکی کا نام ہر طرف لیا جا رہا ہے۔ کوئی چینل لاہور میں ان کا گھر دکھا کر ناظرین کو  ایکسکلوزیو خبر  دے رہا ہے، تو کوئی شناختی کارڈ، پاسپورٹ، نمبرز وغیرہ دکھا کر ویوز بٹورنا چاہتا ہے۔ اس بیچ پاکستان کے سب سے بڑے چینل نے تو یہاں تک بتا دیا کہ  انمول عرف پنکی منشیات کی ترسیل کیسے کرتی تھی؟ طریقہ کار سامنے آگیا  باقی چینلز بتا رہے ہیں کہ کوکین میں کون کونسے کیمیکلز ملائے جاتے تھے اور بنانے کا طریقہ کیا تھا۔

یہ سب دیکھ کر، پڑھ کر اور سن کر بطور میڈیا سٹوڈنٹ اپنی میڈیا انڈسٹری کی ڈالرز کی بھوک پر لعنت بھیجنے کا دل کیا۔ پہلے بھی ٹک ٹاک ویڈیوز میں کاپی کیٹ کرائمز سے متعلق تفصیلی لکھ چکا ہوں اور ایسے بیسیوں واقعات بتائے جہاں کاپی کیٹ کرائم انجام دیا گیا۔ آج بھی وہی چیز دہرا رہا ہوں۔ شدید خواہش ہے کہ میڈیا انڈسٹری میں بیٹھے ہمارے بڑے سنجیدگی سے اس پر سوچیں۔

یونیورسٹی آف سینٹرل فلوریڈا کے پروفیسر ریمنڈ سوریٹ نے ایک کتاب  میڈیا، کرائم اینڈ کریمینل جسٹس  کے نام سے لکھی ہے۔ یہ ان کی تحقیق کا نچوڑ ہے۔ اپنی کتاب میں وہ کاپی کیٹ کرائم سے متعلق بتاتے ہیں کہ جرم کو نقل کر کے دکھانا یا بتانا جرائم کے طریقہ کار کو واضح کرتی ہے جو کسی کو بھی وہ جرم کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے یعنی میڈیا کسی کو مجرم بناتا نہیں ہے لیکن مجرم کو یہ سکھاتا ضرور ہے کہ جرم کیسے کیا جائے۔

 یہ فرق واضح کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اکثر صحافی دوست اور میڈیا چینلز دعویٰ کرتے ہیں کہ  ہم تو بس عوام کو آگاہ کر رہے ہیں ۔

 تو جناب والا! آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ کے ناظرین میں صرف عام شہری نہیں شامل بلکہ وہ افراد بھی ہیں جو کسی جرم کی تیکنیک کے متلاشی ہوتے ہیں یا غیر ارادی طور پر وہ آپ کی خبر پڑھ کر یا سن کر ایسے جرائم انجام دینے کے لیے اپنے اندر کے حیوان کو آمادہ کر سکتے ہیں۔۔

کیا ضرورت ہے کہ آپ دنیا کو بتائیں منشیات کی ترسیل کس طرح ہوتی تھی یا منشیات میں کون کون سے کیمیکلز ملائے جاتے تھے؟ اس طرح کی خبریں دیکھ کر دی لیجنڈ آف بھگت سنگھ فلم کی یاد آگئی جہاں اجے دیوگن عدالت کو بتاتے ہیں کہ  اس کی گواہی کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ یہ ہمارا ساتھی نہیں ہے اور اس کو بم بنانا بھی نہیں آتا۔  بات چلتی ہے تو وہ بیان دینے والا کٹہرے میں کھڑے کھڑے پورا طریقہ بتا دیتا ہے۔ اتنے میں پترکار اٹھتے ہیں۔ یوں اجے دیو گن خود کہتے ہیں کہ بم بنانے کے بارے میں انہوں نے اتنی مشکل سے سیکھا تھا اور اب اخبار کے ذریعے پورے ہندوستان کا بچہ بچہ سیکھ جائے گا۔

پاکستانی میڈیا میں کرائم رپورٹنگ کے حوالے سے یہ رجحان عام ہے کہ میڈیا ادارے توجہ کھینچنے کے لیے حقائق کو بڑھا چڑھا کر یا غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں جس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں کیونکہ سنسنی خیز رپورٹنگ عوام میں خوف و ہراس پھیلا سکتی ہے اور کاپی کیٹ کرائم پر بھی مجبور کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’کماگاتا مارو‘ سے 55 ہزار لوگوں کے سامنے پرفارمنس، دلجیت دوسانجھ کا بیان کیوں مشہور ہو رہا ہے؟

 پاکستانی میڈیا میں ریٹنگ کے لیے کاٹ چھانٹ، سنسنی خیزی اور غیر اخلاقی مواد ایک گہری جڑ پکڑ چکا ہے۔ صحافت کو کارپوریٹ ثقافت اور ریٹنگ کا یرغمال بنا لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اخلاقیات کے بجائے مارکیٹ کی ضروریات کو ترجیح دی جاتی ہے۔

انمول پنکی کیس کی رپورٹنگ میں یہی ہو رہا ہے۔ یوٹیوب چینلز اور نیوز چینلز ویوز کے لیے جرم کے راستے، گھر کی نشاندہی اور سمگلنگ کے طریقے اس تفصیل سے بیان کر رہے ہیں گویا کوئی  ہاؤ ٹو  ٹوٹوریل بنایا جا رہا ہو۔

میڈیا لیٹریسی کے ماہرین بتاتے ہیں کہ کاپی کیٹ جرائم سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم کو غیر سنسنی خیز زبان میں پیش کریں، جرم کے طریقہ کار کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کریں، مجرموں کے نام یا شخصیت کو اجاگر نہ کریں اور رپورٹنگ میں ملزموں یا مجرموں کی بجائے متاثرین پر زور دیں۔۔

پاکستان کا اپنا قانون بھی یہی کہتا ہے۔ پیمرا کے ضابطہ اخلاق کے تحت کوئی بھی ایسا پروگرام نشر نہیں کیا جائے گا جو جرم اور مجرموں کی تعریف و توصیف کرے لیکن اس پر عمل درآمد کا حال سب کے سامنے ہے۔

بطور میڈیا سٹوڈنٹ بتا رہا ہوں کہ خبر دینا اور جرم کا نصاب تیار کرنا یہ دو الگ چیزیں ہیں۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ انمول پنکی کیا تھیں، الزامات کیا ہیں اور قانونی کارروائی کہاں تک پہنچی یا قانونی پیچیدگیاں کیا ہیں؟ لیکن عوام کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ منشیات کس بائیک پر آتی تھی، کون سا راستہ استعمال ہوتا تھا یا گھر کا نقشہ کیا ہے کیونکہ یہ معلومات کسی صورت خبر کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ اگلے مجرم کے لیے ایک تربیتی مواد ضرور ہے۔

تحریر: ادیب یوسفزئی

نوٹ: یہ بلاگر کی فیس بک وال سے لی گئی ہے، متن سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر