اس کی دبئی کے ایک کلائنٹ کے ساتھ اہم آن لائن میٹنگ شروع ہونے والی تھی۔ یہ پروجیکٹ اس کے لیے صرف ایک کام نہیں بلکہ اس کے خاندان کے اخراجات پورے کرنے کی امید تھا۔

میٹنگ شروع ہوئی، حمزہ نے کیمرہ آن کیا لیکن چند لمحوں بعد اس کی آواز رک رک کر آنے لگی، ویڈیو فریز ہو گئی اور پھر اچانک کال ڈس کنیکٹ ہو گئی۔

اس نے بار بار انٹرنیٹ ری کنیکٹ کرنے کی کوشش کی مگر سست رفتار اور کمزور سگنلز نے اس کی محنت اور امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

اگلے دن اسے کلائنٹ کا مختصر سا پیغام ملا کہ  Sorry, we are hiring someone else! 

یہ صرف حمزہ کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کے ہزاروں فری لانسرز، طلبہ اور ڈیجیٹل ورکرز کی کہانی ہے۔

گزشتہ روز پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے 2030 تک مصنوعی ذہانت(اے آئی) میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا پاکستان اس ڈیجیٹل انقلاب کے لیے بنیادی طور پر تیار ہے؟

اسلام آباد میں منعقدہ انڈس اے آئی ویک 2026 کے موقع پر وزیرِاعظم نے اے آئی کو ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا، جن میں ملک بھر کے اسکولوں میں اے آئی نصاب متعارف کروانا، ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس دینا اور ایک ملین نان آئی ٹی پروفیشنلز کو اے آئی کی تربیت فراہم کرنا شامل ہے۔

بظاہر یہ منصوبے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے لے جانے کی ایک سنجیدہ کوشش نظر آتے ہیں۔ تاہم اس خواب کی تعبیر کا دارومدار ایک بنیادی عنصر پر ہے اور  وہ ہے مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ہے 

مصنوعی ذہانت کی دنیا ڈیٹا، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور آن لائن پلیٹ فارمز پر انحصار کرتی ہے۔ ان سب کی بنیاد تیز رفتار، مستحکم اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ ہے۔ 

بدقسمتی سے پاکستان میں انٹرنیٹ کی صورتحال ابھی تک عالمی معیار سے کافی پیچھے ہے۔ بڑے شہروں میں بھی اکثر صارفین سست رفتار اور نیٹ ورک تعطل کا شکار رہتے ہیں، جب کہ دیہی علاقوں میں تو انٹرنیٹ کی دستیابی ہی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

پاکستان میں فائیو جی سروسز کے آغاز کے اعلانات کئی برسوں سے سننے کو مل رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ فور جی انٹرنیٹ بھی بیشتر علاقوں میں مطلوبہ معیار فراہم نہیں کر پا رہا۔

روزمرہ کے کاموں سے لے کر پیشہ ورانہ سرگرمیوں تک، انٹرنیٹ کی کمزور رفتار صارفین کے لیے ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں اے آئی جیسے جدید اور ڈیٹا پر مبنی شعبے میں ترقی کی توقع کرنا حقیقت سے کچھ دور محسوس ہوتا ہے۔

پاکستان اس وقت دنیا کے نمایاں فری لانسنگ ہب کے طور پر ابھر رہا ہے۔ لاکھوں نوجوان عالمی مارکیٹ میں اپنی خدمات فراہم کر کے نہ صرف اپنا روزگار کما رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں قیمتی زرمبادلہ بھی لا رہے ہیں۔ تاہم ان نوجوانوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ تیز رفتار اور مستحکم انٹرنیٹ کی عدم دستیابی ہے۔ 

ویڈیو کانفرنسز کے دوران کال ڈراپ ہونا، بڑی فائلوں کی اپ لوڈنگ میں گھنٹوں لگ جانا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک مسلسل رسائی نہ ہونا ایسے مسائل ہیں، جو پاکستان کے فری لانسرز کی کارکردگی اور عالمی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔

اگر حکومت واقعی پاکستان کو اے آئی کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے ان نوجوانوں کی بنیادی ضرورت کو پورا کرنا ہوگا جو پہلے ہی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف تعلیمی نصاب یا تربیتی پروگرامز سے فروغ نہیں پاتی بلکہ اس کے لیے عملی ماحول اور تکنیکی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

وزیرِاعظم کی جانب سے اے آئی تعلیم اور ریسرچ پر سرمایہ کاری کا اعلان بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اے آئی کے بیشتر ٹولز اور ریسرچ پلیٹ فارمز کلاؤڈ بیسڈ ہوتے ہیں۔ ان پر کام کرنے کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ ناگزیر ہے۔

اگر ایک طالب علم یا محقق کو بار بار نیٹ ورک مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کی قیمت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ بہت سے نوجوان مہنگے ڈیٹا پیکجز خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے ڈیجیٹل تعلیم اور تربیت تک ان کی رسائی محدود ہو جاتی ہے۔

اگر اے آئی انقلاب کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنانا ہے تو انٹرنیٹ کو سستا، تیز اور ہر شہری تک قابلِ رسائی بنانا ہوگا۔

عالمی سطح پر ان ممالک کی مثالیں موجود ہیں، جنہوں نے اے آئی میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ جنوبی کوریا، چین اور سنگاپور جیسے ممالک نے سب سے پہلے اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا۔

ان ممالک میں تیز رفتار انٹرنیٹ کو بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے غیر معمولی ترقی کر چکے ہیں۔

پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مرحلہ وار حکمت عملی اپنائے۔ سب سے پہلے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنایا جائے، فائیو جی سروسز کو مؤثر انداز میں متعارف کروایا جائے اور دیہی علاقوں تک ڈیجیٹل سہولتوں کو پھیلایا جائے۔

اس کے بعد اے آئی تعلیم، ریسرچ اور اسٹارٹ اپس پر سرمایہ کاری زیادہ مؤثر نتائج دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو ٹیلی کام کمپنیوں کی کارکردگی پر سخت نگرانی بھی کرنی ہوگی تاکہ صارفین کو معیاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔

انٹرنیٹ بندشوں اور نیٹ ورک تعطل جیسے مسائل پر بھی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ڈیجیٹل معیشت کا انحصار بلا رکاوٹ انٹرنیٹ پر ہوتا ہے۔

پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ اگر انہیں بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں لیکن اگر بنیادی سہولتیں فراہم نہ کی جائیں تو بڑے منصوبے محض اعلانات تک محدود رہ سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت یقیناً مستقبل کی ٹیکنالوجی ہے مگر اس مستقبل تک پہنچنے کے لیے ہمیں حال کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ حمزہ (فرضی نام) جیسے ہزاروں نوجوان آج بھی اپنے خوابوں اور انٹرنیٹ سگنلز کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

اگر پاکستان واقعی ڈیجیٹل انقلاب لانا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے ان خوابوں کو مضبوط بنیاد فراہم کرنی ہوگی کیونکہ مضبوط ڈیجیٹل ڈھانچے کے بغیر مصنوعی ذہانت کا خواب ایک خوبصورت تصور تو ہو سکتا ہے، مگر ایک کامیاب حقیقت نہیں بن سکتا۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر