اصل طاقت فائلوں، نوٹس اور سمریوں میں پوشیدہ ہےاور ان پر گرفت بیوروکریسی کی ہے۔
ہر وزیر حلف اٹھاتے وقت عوام کو ریلیف دینے کے بلند بانگ دعوے کرتا ہے۔ مہنگائی ختم کرنے، نظام درست کرنے اور انصاف فراہم کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، مگر چند ہی دنوں میں یہ دعوے فائلوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ اس لیے کہ حکم دینا اور حکم منوانا ہمارے نظام میں دو مختلف چیزیں ہیں۔
پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ آج بھی برطانوی راج کی باقیات اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ نظام عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ ان پر حکومت کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ آزادی کے بعد چہرے تو بدل گئے، مگر سوچ نہیں بدلی۔ افسر شاہی کو طاقت ملی، عوامی نمائندے کمزور ہوتے چلے گئے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ منتخب نمائندے کمزور اور غیر منتخب طبقہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔
اسی حقیقت کی ایک سفاک مثال حالیہ دنوں پنجاب میں سامنے آئی، جہاں لاہور بھاٹی کے مقام پر زیر کنسٹرکشن کھلے مین ہول میں گر کر دو افراد ماں بیٹی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا، مگر ہر بار کی طرح اس بار بھی سانحے کے بعد حکومتی مشینری جاگ اٹھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے پر شدید ردِعمل دیا، سخت نوٹس لیا اور فوری طور پر متعلقہ افسران کے تبادلے کے احکامات جاری کیے۔
نام لیے بغیر بات ادھوری رہے گی۔ مقامی حکومت، واسا، میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کے افسران سالہا سال سے جانتے ہیں کہ کون سا مین ہول کھلا ہے، کون سی گلی خطرہ بن چکی ہے اور کون سی فائل کس میز پر دبی ہوئی ہے۔ مگر کارروائی تب ہوتی ہے جب کوئی لاش گرتی ہے۔ اس کے بعد ایک دو افسران کو اِدھر سے اُدھر کر دیا جاتا ہے اور سمجھ لیا جاتا ہے کہ انصاف ہو گیا۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا تبادلہ سزا ہے؟ کیا ایک افسر جو آج لاہور سے ہٹا دیا گیا، کل کسی اور شہر میں وہی غفلت نہیں دہرائے گا؟ کیا سیکریٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ محکموں کے سربراہان صرف اس لیے بری الذمہ ہو جاتے ہیں کہ فائل کسی اور کے پاس تھی؟
سچ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بیوروکریسی کو اجتماعی جواب دہی سے استثنا حاصل ہے۔ ایک سیاست دان اگر غلط فیصلہ کرے تو نیب، عدالت اور میڈیا اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، مگر اگر افسر شاہی کی غفلت سے جانیں چلی جائیں تو زیادہ سے زیادہ ایک نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہےاور معاملہ ختم۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وزیراعلیٰ کے بیانات اور نوٹس اپنی جگہ، مگر جب تک نظام افسر کو واقعی جواب دہ نہیں بناتا، تب تک ایسے اعلانات محض وقتی غصے کو ٹھنڈا کرنے کا ذریعہ رہیں گے۔ کھلے مین ہول بند کرنے کا حکم برسوں پہلے بھی دیا جا سکتا تھا، مگر فائلوں نے اجازت نہیں دی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست دان کی بے بسی اور بیوروکریسی کی طاقت پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے۔ عوام ووٹ دیتے ہیں، لاشیں اٹھاتے ہیں اور امیدیں باندھتے ہیں، مگر نظام وہی رہتا ہے جو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں۔
اگر واقعی جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو محض تبادلے اور بیانات کافی نہیں۔ اختیار کے ساتھ جواب دہی جوڑنا ہوگی۔ بیوروکریسی کو عوامی خدمت کا ادارہ بنانا ہوگا، نہ کہ اقتدار کا متوازی مرکز۔
ورنہ ہر سانحے کے بعد ایک نیا نوٹیفکیشن آئے گا، چند نام بدل جائیں گے، اور سوال وہی رہے گا:
حکومت تو منتخب ہے، مگر حکمرانی آخر کون کر رہا ہے؟
تحریر: رضوان حیدر
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







