یہ ورلڈ کپ کئی حوالوں سے تاریخ ساز رہا۔ پہلی مرتبہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو نے مشترکہ طور پر میزبانی کی، پہلی بار 48 ٹیمیں میدان میں اتریں اور پہلی ہی بار ٹورنامنٹ میں 104 میچز کھیلے گئے۔ اس کے ساتھ فیفا نے تقریباً 11 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی، جب کہ اسپانسرشپ، براڈکاسٹنگ، جرسیوں کی فروخت اور تجارتی سرگرمیوں نے بھی نئے مالیاتی ریکارڈ قائم کیے۔

اسٹیڈیمز میں 65 لاکھ سے زائد شائقین نے میچز دیکھے، جب کہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ورلڈ کپ کے مناظر کو 20 ارب سے زیادہ بار دیکھا گیا۔ میدان میں بھی نئے ریکارڈز قائم ہوئے اور ٹورنامنٹ میں 294 سے زائد گول اسکور کیے گئے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

لیکن اس ورلڈ کپ کی اصل کہانی صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ان کھلاڑیوں کی رخصتی ہے جنہوں نے گزشتہ دو دہائیوں تک فٹ بال کی دنیا پر راج کیا۔

کرسٹیانو رونالڈو، جنہوں نے مسلسل چھ ورلڈ کپ میں گول کرنے کا منفرد اعزاز حاصل کیا، اب اپنے شاندار عالمی کیریئر کے اختتام کے قریب ہیں۔ برازیل کے نیمار جونیئر، جن کی مہارت اور ڈرائبلنگ نے ایک نسل کو فٹ بال سے محبت کرنا سکھائی، وہ بھی بین الاقوامی فٹ بال کو الوداع کہنے جا رہے ہیں۔

جرمنی کے مانوئل نوئیر، جنہوں نے گول کیپنگ کا انداز بدل دیا، کروشیا کے لوکا موڈرچ، بیلجیئم کے کیون ڈی بروئن، رومیلو لوکاکو، تھیبو کورٹوا اور نیدرلینڈز کے ورجل وین ڈائک جیسے نام بھی اس ورلڈ کپ کے بعد عالمی منظرنامے سے آہستہ آہستہ رخصت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اور پھر بات آتی ہے لیونل میسی کی۔

میسی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ عمر صرف ایک عدد ہے۔ 21 ورلڈ کپ گولز، مسلسل 9 ورلڈ کپ میچز میں گول کرنے کا منفرد ریکارڈ اور ارجنٹینا کو دوبارہ فائنل تک پہنچانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اب بھی دنیا کے بہترین فٹ بالرز میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کا آخری ورلڈ کپ بھی اختتام کے قریب ہے، لیکن ان کی میراث آنے والی کئی نسلوں تک زندہ رہے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا لامین یامال، جیوڈ بیلنگہم، ارلنگ ہالینڈ اور کیلین ایمباپے جیسے نوجوان ستارے اس خلا کو پُر کر سکیں گے؟ بلاشبہ ان کے پاس بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن میسی اور رونالڈو جیسی طویل المدتی رقابت اور عالمی اثر پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

ہر دور کے اپنے ہیروز ہوتے ہیں، مگر کچھ نام وقت گزرنے کے باوجود تاریخ کے صفحات سے محو نہیں ہوتے۔ کرسٹیانو رونالڈو، لیونل میسی اور نیمار صرف عظیم فٹ بالرز نہیں، بلکہ ایک ایسے دور کی علامت ہیں جس نے فٹ بال کو دنیا کا سب سے مقبول کھیل بنانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 شاید نئے ریکارڈز کے لیے یاد رکھا جائے، لیکن اس سے بڑھ کر یہ اس لمحے کے طور پر تاریخ میں محفوظ ہوگا جب فٹ بال کی ایک سنہری نسل نے دنیا کو الوداع کہنا شروع کیا اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر