امریکا کی سنجیدگی ایرانیوں کو بھی محسوس ہو رہی تھی۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے لمبی جنگ کیلئے انتظامات کے تمام اختیارات سپریم لیڈر کی سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی الاریجانی کو دیدی۔ اور دوست ممالک کے ساتھ اس سٹریٹجی پر کام کرنا شروع کردیا۔ دونوں مذاکرات کیساتھ جنگ کی تیاری کا پلان بھی کررہے تھے، امریکا صرف مذاکرات ایرانی سپریم لیڈر کی لوکیشن تلاش کرنے کیلئے کر رہا تھا ، جو کئی عرصے سے مل ہی نہیں رہی تھی۔ جس دن لوکیشن ملنی تھی اس دن مذاکرات بھی ختم ہو جانے تھے اور حملہ بھی ہونا تھا۔
اس خطے میں امریکی سیکیورٹی بلاک توڑنے کا حسین موقع تھا خلیجی ممالک نے اس کا فائدہ اٹھانا مناسب سمجھا۔ سعودی عرب کا ایک وفد امریکا میں لابنگ کرتا رہا ہے کہ امریکا اسرائیل کی باتوں میں نہ آئے اور ایران کیساتھ مذاکرات کرے، اسرائیل غلط انٹیلیجنس بیس پر امریکا کو غلط جنگ میں دھکیل رہا ہے۔
جب سعودی عرب ، قطر، ترکیہ اور عمان کو محسوس ہوا کہ امریکا ان کی بات نہیں مان رہا اور اسرائیلی لابنگ کامیاب ہو رہی ہے تو انھوں نے جیو پولیٹکس کی شفٹنگ والے آپشن پر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس شفٹنگ پرروس اور چین کام کر رہے تھے اور ایران میں مسلسل لمبی جنگ کیلئے اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہے تھے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کو پیغام بھیجا تھا کہ اگر وہ امریکی ائیر بیسز پر حملہ کرتے ہیں تو ہم نیوٹرل رہیں گے اور جنگ کا حصہ یا جوابی حملہ بھی نہیں کریں گے۔ امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران نے سب سے پہلے میزائل اور ڈرونز خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی بیسز پر داغ دیئے اور امریکا اس کی توقع نہیں کررہا تھا۔
عرب ممالک نے بات کو مذمت تک رکھا اور امریکا سے کہا کہ وہ ان کو انٹرسیپٹ کرے۔ قطر، بحرین، کویت، یو اے ای، اردن ، عراق، شام، سعودی عرب، اسرائیل اور قبرص سمیت امریکی بحری بیڑے کی طرف جب ایک ساتھ ڈرونز اور میزائل جانا شروع ہوئے تو امریکا نے صرف اسرائیل کو پروٹیک کرنا شروع کردیا۔
اس وقت امریکی حکام کو محسوس ہوا کہ ان کا اندازہ غلط تھا اور انھوں نے یہ اندازہ بھی غلط لگایا تھا کہ عرب ممالک میں اگر امریکی ائیر بیسز پر حملے ہوئے تو وہ بھی ایران پر جوابی حملے کریں گے۔ سعودی عرب کو جو خدشہ تھا کہ امریکا اسرائیل کو پروٹیک کرے گا عرب ممالک کو نہیں تو وہ بھی درست نکلا۔
سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی سوچ معاشی ترقی کی ہے چین کا ماڈل بھی اسی پر کام کرتا ہے سعودی عرب چین کو سب سے زیادہ فنانس کرنے والا، کئی منصوبوں میں شراکت دار ہے۔
اسرائیل مسلسل متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر سعودی عرب کیخلاف لابنگ کر رہا تھا سعودی عرب یمن اور صومالیہ لینڈ میں متحدہ عرب امارات کیخلاف سامنے آ چکا تھا۔ محمد بن سلمان نے تمام عرب ممالک کوصرف سفارتی زبان کے استعمال تک محدود کیا ہوا ہے۔یہ پالیسی امریکہ و اسرائیل کے حق میں نہیں ہے۔کیونکہ اگر یہ ممالک خاموشی اختیار کرتے ہیں جو دنیا بھر میں معاشی بحران آنا شروع ہوگیا ہے اس سے یہ خطہ کم متاثر ہوگا جتنا یورپ اور امریکہ ہوگا۔ اور اس بحران کو امریکہ و یورپ برداشت نہیں کرسکتے لمبی جنگ سے ایک وسیع و عریض معاشی بحران ہوگا جس سے امریکہ کیلئے سنبھلنا ناممکن ہے اس سے دنیا میں نئی شفٹنگ جنم لے گی۔
اس نئی شفٹنگ کو روکنے کیلئے عرب ممالک میں امریکی و اسرائیلی ایجنٹ انتشار پیدا کر رہے ہیں۔ تاکہ اس خطے کو مزید آگے کی لپیٹ میں دیا جائے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ عرب ممالک صرف سفارتی چیزوں تک محدود رہیں گے ایران کو لمبی جنگ کیلئے مدد فراہم کریں گے۔لیکن خود جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔
تحریر: فرحان ملک
نوٹ: یہ تحریر فیس بک وال سے لی گئی ہے ادارے کا خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







